لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ایل نینیو اب تک پوری طرح قائم ہو چکا ہے اور رواں سال کے اختتام کے قریب ’انتہائی طاقتور‘ درجے تک پہنچ سکتا ہے جس کے اثرات فروری تک برقرار رہنے کے 100 فیصد امکانات ہیں۔ ادارے نے کہا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر بارشوں اور درجۂ حرارت کے نمونوں میں تبدیلی آئے گی اور سیلاب، خشک سالی اور انتہائی گرمی کے واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ موجودہ ایل نینیو بحرِالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصوں میں سطحی پانی کا درجۂ حرارت معمول سے نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے اور یہ عمل جلد ہی اپنی بلند ترین شدت پر پہنچ سکتا ہے۔ ادارے کی سربراہ سیلیستے ساؤلو نے خبردار کیا کہ یہ غیر معمولی ایل نینیو دنیا بھر کی آبادیوں اور معیشتوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈبلیو ایم او کے مطابق ایل نینیو کی موجودہ شدت بڑھنے کے باعث دنیا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور درجۂ حرارت کے معمولات تبدیل ہو سکتے ہیں، جس سے سیلاب، خشک سالی اور انتہائی گرمی کے واقعات مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ ادارہ ایل نینیو کی شدت کو چار درجوں میں تقسیم کرتا ہے: کمزور، معتدل، طاقتور اور انتہائی طاقتور — اور رواں سال کے لیے ماہرین نے بالائی ترین درجہ متوقع قرار دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے بھی کہا ہے کہ سمندروں کا درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور دنیا شدید موسمی واقعات کے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سائنس دان یہ بھی کہتے ہیں کہ اگرچہ ایل نینیو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے، انسانی سرگرمیاں اور فوسل فیول کا استعمال پہلے ہی گرماتی زمین کو مزید حساس بنا چکا ہے، جس سے ایک طاقتور ایل نینیو کے نتائج اور بھی بدتر ہو سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایم او نے بتایا کہ موجودہ ایل نینیو عام طور پر نو سے بارہ ماہ تک رہتا ہے مگر اس بار نمو کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے موسمی اثرات 2027 تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ادارے نے ممالک کو موسمیاتی خطرات کی تیاری اور موافقت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین اور عالمی امدادی ادارے اس بارے میں بھی متوجہ ہیں کہ حالیہ قدرتی آفات، مثلاً چین اور نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب جن میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، یہ واضح مثالیں ہیں کہ شدید موسمی واقعات حقیقی وقت میں تباہ کن نتائج لا سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایم او کی وارننگ کے پیشِ نظر عالمی سطح پر حکومتی اور انتظامی اداروں سمیت زرعی، پانی اور ہنگامی خدمات کے شعبوں کو آئندہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی موسمی شدت کے لیے منصوبہ بندی تیز کرنے کا کہا جا رہا ہے۔




