پاکستان نے 2022ء کے سیلاب کے بعد بحالی کا عزم دکھاتے ہوئے عالمی موسمیاتی کاروائی میں اپنا حصہ ادا کیا

پاکستان نے 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کا عزم جاری رکھا اور عالمی موسمیاتی کاروائی میں اپنا حصہ ادا کرنے کا اشارہ دیا۔
Weather News

پاکستان نے 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کا عزم جاری رکھا اور عالمی موسمیاتی کاروائی میں اپنا حصہ ادا کرنے کا اشارہ دیا۔

صوبائی آفاتِ قدرتی انتظامیہ نے مون سون کی نویں لہر کے دوران راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں شہری سیلاب اور مری و گلیات میں زمین پھسلنے کی وارننگ جاری کی ہے۔

بابوسر ٹاپ پر سیزن کی پہلی برفباری سے کاغان وادی سرد ہو گئی جبکہ مانسہرہ اور دیگر بلند علاقوں میں بارش نے راستوں اور زندگی پر اثر ڈالا؛ انتظامیہ نے اہم راستے کھلے بتائے۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ موجودہ ایل نینیو انتہائی طاقتور مرحلے تک پہنچ سکتا ہے اور فروری تک برقرار رہنے کا تقریباً 100% امکان ہے، جس سے عالمی موسمی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

پاکستان موسمیاتی محکمہ نے 3 تا 5 ستمبر کے دوران بالائی علاقوں، بشمول اسلام آباد اور راولپنڈی، میں شدید بارشیں متوقع قرار دے کر شہری سیلاب، ندی نالوں کی طغیانی اور پہاڑی لینڈ سلائیڈنگ کی وارننگ جاری کی ہے۔

راولپنڈی میں شدید بارش نے 16 سال کا ریکارڈ توڑ دیا؛ نیو کتریاں میں 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، پی ڈی ایم اے نے نالا لائی کے نزدیک رہائشیوں کے لیے احتیاطی وارننگ جاری کی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے 31 اگست سے 4 ستمبر کے دوران درجۂ حرارت میں اضافے اور متوقع بارش کے باعث بالائی علاقوں میں گلیشیئر جھیل سیلاب (گلوف) کا خدشہ ظاہر کیا اور عوام کو احتیاط کی ہدایت کی۔

پاکستان موسمیاتی محکمہ نے 29 اگست تا 5 ستمبر بالائی علاقوں میں مون سون کرنٹس اور ویسٹرلی لہر کے زیرِ اثر تیز بارشوں اور گرج چمک کی پیشگوئی کی، شہری سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ظاہر کیا۔

پاکستان محکمۂ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں اور متوقع مغربی موج کے باعث کئی علاقوں میں 28 اگست سے 6 ستمبر تک وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔

پی ایم ڈی کے مطابق کراچی نے اس سال 1997 کے بعد سب سے کم مون سون بارش دیکھی؛ بحیرہ عرب پر سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے اگست کے باقی دنوں اور ستمبر میں بارش کے امکانات کم ہیں۔