صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 31 اگست سے 4 ستمبر کے دوران بارش اور درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث بالائی خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل کے اچانک اخراج سے سیلاب (گلوف) کے خدشے کی وارننگ جاری کی ہے۔ این ڈی ایم اے کے این ای او سی نے بھی ملک کے مختلف حصوں میں طوفانی بارش، تیز ہوائیں اور آسمانی بجلی کی پیشگوئی کی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ رات 31 اگست سے 4 ستمبر تک متوقع بارش اور درجۂ حرارت میں اضافہ گلیشیئر کے پگھلنے کی رفتار بڑھا سکتا ہے، جس سے گلیشیئر جھیلوں کا حجم اور سطح بلند ہو سکتی ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی گلیشیئر جھیل کا اچانک اخراج ہوا تو تیز رفتار سیلاب اور خطرناک پانی کے بہاؤ کا خطرہ موجود ہوگا۔
پی ڈی ایم اے نے چترال، دیر، سوات، کوہستان اور منہسہرہ کی انتظامیہ کو حساس گلوف مقامات کی مسلسل نگرانی اور بروقت اطلاعات جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری ہدایات میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ دریاؤں، نالیوں، گلیشیئر جھیلوں اور تنگ وادیاں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ سیاحوں اور مسافروں کو بھی غیر ضروری سفر، کیمپنگ اور خطرناک ٹریکنگ سے پرہیز کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
قبل ازیں، قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے قومی ایمرجنسی آپریشن سنٹر (این ای او سی) نے 30 اگست سے 4 ستمبر تک موسم کا عمومی جائزہ جاری کرتے ہوئے پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بعض حصوں میں تیز آندھی، طوفانی بارش اور آسمانی بجلی کی پیشگوئی کی تھی۔
این ڈی ایم اے کے نوٹ کے مطابق پنجاب کے متعدد اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہوائیں متوقع ہیں جن میں مری، راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، چکوال، جہلم، میانوالی، خوشاب، سرگودھا اور گجرات شامل ہیں۔ سیالکوٹ، راولپنڈٰا/گوجرانوالہ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی بارش کا امکان بتایا گیا ہے، جبکہ زیادہ تر پنجاب میں دن کے اوقات گرم اور مرطوب رہنے کے باعث درجۂ حرارت میں اضافہ متوقع ہے۔
خیبر پختونخوا میں بھی کچھ علاقوں میں شدید بارش کا امکان ہے اور ڈائریکٹ ذکر کی گئی فہرست میں دیر، چترال، سوات، کوہستان، ملاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بنوں اور منہسہرہ شامل ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں بھی دلّی بارشیں ہو سکتی ہیں۔
حکام نے ہنگامی تیاریوں، مقامی نگرانی بڑھانے اور متاثرہ علاقوں میں بروقت وارننگ سسٹم فعال رکھنے پر زور دیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سرکاری پیغامات اور موسمی اپڈیٹس پر عمل کریں اور خطرناک علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔




