پاکستان موسمیاتی محکمہ (پی ایم ڈی) کے مطابق کراچی نے اس سال اتنی کم مون سون بارش ریکارڈ کی ہے جتنی صورتحال حالیہ طور پر صرف 1997 میں دیکھی گئی تھی؛ محکمہ نے کہا ہے کہ اگست کے باقی دنوں اور ستمبر میں بارش کے امکانات انتہائی کم ہیں۔
پاکستان موسمیاتی محکمہ (پی ایم ڈی) نے بتایا ہے کہ اس سال کراچی میں مون سون بارش معمول سے انتہائی کم رہی، جو تقریباً 29 سال پہلے 1997 کی حالت جیسی ہے۔ محکمہ کے بقول اُس وقت بھی ایل نینو کے اثرات فعال تھے اور اسی وجہ سے بارش نہ ہونے کے برابر رہی تھی۔
پی ایم ڈی نے مزید کہا ہے کہ بحیرہ عرب کے اوپر کوئی ایسا کم دباوٴ یا بارش لانے والا موسمی نظام فی الحال موجود نہیں ہے جو کراچی تک پہنچ کر بارش فراہم کرے۔ اسی وجہ سے اگست کے باقی دنوں میں شہر پر اثرانداز ہونے والی بارش کے امکانات نہ ہونے کے برابر قرار دیے گئے ہیں۔
محکمہ نے واضح کیا کہ مون سون کے دوران کراچی میں عام طور پر وہ کم دباوٴی نظام اور درجۂ حرارت کی مناسبت سے بننے والے برفانی یا بارش لانے والے سسٹم بحیرہ عرب سے حرکت کر کے شہر تک پہنچتے ہیں، مگر اس وقت بحیرہ عرب پر ایسی سرگرمی غیر فعال ہے جس نے بارش کے امکانات گھٹا دیے ہیں۔
پی ایم ڈی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مانسون سیزن عام طور پر 15 جولائی سے 15 ستمبر تک کراچی اور ملک کے دیگر ساحلی و میدانی علاقوں میں جاری رہتا ہے، جب کہ پہاڑی اور شمالی علاقوں میں مون سون کا عمل بعض اوقات 30 ستمبر تک جاری رہ سکتا ہے۔
محکمہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ستمبر میں بھی مون سون بارش کے امکانات بہت کم ہیں جب تک بحیرہ عرب پر موسمی سرگرمیاں دوبارہ فعال نہ ہوں۔ محکمہ نے عوام اور متعلقہ اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ مون سون کی متوقع غیر مصروف صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب تیاری اور پانی کے وسائل کے انتظام پر توجہ دی جائے۔
اس سال کراچی کی کم بارش کی صورتحال نے شہری انتظامیہ اور ماحولیاتی منصوبہ سازوں کے لیے بھی خطرات اور چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن میں پانی کی دستیابی اور گرمی کے موسمی اثرات شامل ہیں۔ پی ایم ڈی کی پیش گوئی کے مطابق اگر بحیرہ عرب میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما نہیں ہوتیں تو شہر میں فوری بحالی کے امکانات محدود ہو جائیں گے۔




