راولپنڈی میں 16 سالہ بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، نیو کٹاریاں میں 230 ملی میٹر بارش

راولپنڈی میں شدید بارش نے 16 سال کا ریکارڈ توڑ دیا؛ نیو کتریاں میں 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، پی ڈی ایم اے نے نالا لائی کے نزدیک رہائشیوں کے لیے احتیاطی وارننگ جاری کی ہے۔

یکم ستمبر 2026 کو راولپنڈی میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی جس میں نیو کتریاں میں سب سے زیادہ 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے نالا لائی کے اطراف آباد رہائشیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

راولپنڈی میں بدھ کو آنے والی موسلا دھار بارش نے شہر کا 16 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق نیو کٹاریاں میں 230 ملی میٹر، چکلالہ میں 206 ملی میٹر، شمس آباد میں 203 ملی میٹر اور گولڑہ میں 157 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

پی ڈی ایم اے نے نالا لائی کے نزدیک رہائشیوں کو فوری احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ کنٹرول روم چوبیس گھنٹے موسمی اور سیلابی صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے۔ حکام نے ممکنہ سیلابی خطرے کے پیش نظر مقامی لوگوں کو اپنے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے اور عندِ ضرورت الرٹ رہنے کی تاکید کی ہے۔

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے چیف واٹر انجینئر محمد عتیق نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی درجے کی بارش ہے جو آخری بار 2010 میں دیکھی گئی تھی۔ ان کے بقول کنٹونمنٹ علاقوں میں بارش کا حجم نسبتاً کم رہا، جبکہ نالا لئی کے اوپر والے علاقوں میں بارش کہیں زیادہ تھی، جس سے سیلابی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے ایگزیکٹو آفیسر کی ہدایت پر متعلقہ عملہ ہائی الرٹ ہے اور ایک ایمرجنسی سنٹر قائم کر دیا گیا ہے تاکہ رہائشی روزانہ کی بنیاد پر مدد اور معلومات کے لیے رابطہ کر سکیں۔ بورڈ نے شہر کو چھ شعبوں میں تقسیم کر کے ہر شعبے میں فلڈ ریلیف چھاؤنیوں کی تیاری کر رکھی ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں فوری رسپانس ممکن ہو۔

اب تک کنٹونمنٹ علاقوں میں کوئی بڑا انسانی جانی نقصان یا وسیع پیمانے پر ہنگامی صورتِ حال رپورٹ نہیں ہوئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال بدل سکتی ہے اور عوام کو نوٹس کی گئیں ہدایات پر عمل درآمد جاری رکھنا چاہیے۔ پی ڈی ایم اے اور کنٹونمنٹ کنٹرول رومز بارہویں گھنٹے کی بنیاد پر کالز کا جواب دے رہے ہیں اور مقام پر نگرانی جاری ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519