سری نگر (نمائندہ خصوصی) بد نامِ زمانہ تہاڑ جیل میں قید کشمیری علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک نے 27 اگست کو سرینگر کی عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف مقدمے کی مزید پیروی نہیں کریں گے، وہ عدالت سے سزائے موت کی درخواست کرے ہیں اور پاکستان میں مقیم اپنی اہلیہ مشال ملک کو نکاح سے آزاد کرتے ہیں۔
تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے یاسین ملک نے اپنے طویل حلف نامے کو اپنا ’’آخری بیان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ استخارے اور حالات پر غور کے بعد اُنہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مقدمے کا دفاع یا پیروی جاری نہیں رکھیں گے، وہ عدالت سے خود پر سزائے موت نافذ کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔
یہ حلف نامہ وکیل ابو عادل پنڈت نے عدالت میں جمع کرایا، وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ حلف نامے پر جیل حکام کے دستخط اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی مہر موجود ہے اور یہ یاسین ملک کی ہدایت پر تہاڑ جیل میں لکھا گیا۔
حلف نامے میں یاسین ملک نے واضح کیا ہے کہ اِس فیصلے کو جرم کا اعتراف یا استغاثہ کے الزامات کو تسلیم کرنے کے مترادف نہ سمجھا جائے، اُن کے جس قتل کا الزام لگایا ہے وہ اسوقت کا ہے جب وہ ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے، وہ قومے میں تھے، اُنہیں ایک ریڈ کے دوران بھاگنا پڑا تاہم وہ گر کر شدید زخمی ہو گئے تھے، مقامی پولیس یا سکیورٹی نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مردہ سمجھ کر ہسپتال پہنچایا تاہم ڈاکٹروں نے اُنہیں دیکھ لیا اور تصدیق کی کہ وہ زندہ تھے تاہم اُس وقت وہ قومے میں تھے، ہسپتال میں اِس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے یاسین ملک پر مقدمے میں 1990ء میں ایک پنڈت گھرانے کی سِرلا بھٹ کے قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ تہاڑ جیل میں اُن سے ایک مبینہ ہاتھ سے لکھے گئے نوٹ اور قتل کے جرم کے متعلق پوچھ گچھ کی گئی۔
حلف نامے میں موجودہ اور سابق حکومتی اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مبینہ ملاقاتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یاسین ملک نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں علاج کے دوران اُن کے علاج کے اخراجات حکومت کی طرف سے ادا کرنے کی کوشش کی گئی جسے اُنہوں نے جھٹلاتے ہوئے ہزاروں ڈالر لینے سے انکار کر دیا۔
یاسین ملک نے 1990ء میں اپنی چوٹوں اور 1992 میں اوپن ہارٹ سرجری کا حوالہ دے کر استدلال کیا ہے کہ وہ اِس واقعے کے وقت کسی کو اِس طرح کی ہدایت کیسے دے سکتے تھے۔
اُنہوں نے حلف نامے میں اسلام آباد میں مقیم اپنی اہلیہ مشال ملک کو اپنے نکاح سے ’’آزاد‘‘ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اُن کی موت کے بعد وہ سزا بھگتتی رہیں، اُںہوں نے پہلے ہی بہت قربانی دی پے۔ اُنہوں نے اپنی بیٹی کو بھی ہدایات دیں۔




