یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سہ فریقی اجلاس کی تجویز؛ یورپی سلامتی پر نئے سوالات“
لاہور (ویب ڈیسک) عالمی میڈیا : روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ممکنہ سہ فریقی اجلاس کی تجویز دی ہے، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات ہو سکتی ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے 19 اکتوبر 2026 کو تصدیق کی کہ یہ خیال زیرِ بحث آیا، تاہم اجلاس یا اس کے ایجنڈے پر کوئی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔ ٹرمپ نے بھی ملاقات کے لیے آمادگی ظاہر کی، لیکن کہا کہ ان کی ترجیح جوہری ہتھیاروں میں کمی اور جوہری عدم پھیلاؤ پر گفتگو ہوگی۔
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ”اب کسی اور کو یوکرین کی جانب سے مذاکرات کرنے چاہییں“ کیف اور اس کے یورپی اتحادیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ یوکرینی وزیر خارجہ آندری سِبیہا کے مطابق روس، امریکا اور چین کے درمیان یوکرین کی شرکت کے بغیر ملاقات ماسکو کو مزید جارحانہ مؤقف اختیار کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ پیسکوف نے بھی تسلیم کیا کہ کسی حتمی تصفیے کے لیے کیف کی شمولیت ضروری ہوگی۔
یورپ اور نیٹو کے تناظر میں بنیادی مسئلہ صرف جنگ بندی نہیں، بلکہ اس کے بعد کی سلامتی کی ضمانتیں ہیں۔ اگر یوکرین پر علاقائی رعایتیں یا فوجی پابندیاں اس کی رضامندی کے بغیر عائد کی گئیں تو یورپی ممالک اسے مستقبل میں روسی دباؤ کی مثال سمجھ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، قابلِ تصدیق جنگ بندی، نگرانی کا مؤثر نظام اور خلاف ورزی کی صورت میں واضح نتائج جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔
نیٹو کے لیے یہ صورتِ حال اتحاد کی یکجہتی، مشرقی یورپ کے دفاع، اسلحے کی فراہمی اور امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے تسلسل سے جڑی ہے۔ چین کی شرکت اسے عالمی طاقتوں کی سفارت کاری میں اہم مقام دے سکتی ہے، لیکن بیجنگ کی موجودگی بذاتِ خود کسی قابلِ نفاذ امن معاہدے کی ضمانت نہیں۔




