سعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری فوج کی ممکنہ تعیناتی؛ پارلیمانی ووٹنگ 26 اکتوبر تک ملتوی“
مصر کی پارلیمان نے صدر عبدالفتاح السیسی کی اس درخواست پر ووٹنگ 26 اکتوبر 2026 تک مؤخر کر دی ہے جس کے تحت سعودی عرب کی درخواست پر مصری افواج کو اس کے دفاع میں معاونت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ پیش رفت یمن کے حوثی گروپ کے سعودی اہداف، بشمول ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے، پر حملوں میں اضافے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ صدر السیسی نے خلیجی اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کا عندیہ دیا، لیکن پارلیمان کی منظوری ابھی باقی ہے۔
اس معاملے میں تاخیر محض طریقۂ کار نہیں؛ یہ مصر کے لیے فوجی، معاشی اور سیاسی خطرات کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ مصری سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے مجوزہ مشن کے مقاصد، مدت، اخراجات اور فوجیوں کو لاحق خطرات پر ناکافی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ارکان کو ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے کی ہدایت کی۔ آئینی طریقۂ کار کے تحت بیرونِ ملک جنگی مشن کے لیے پارلیمان کی دو تہائی اکثریت درکار ہے۔
فوجی اعتبار سے مصر کی ممکنہ معاونت زمینی فوج بھیجنے کے بجائے فضائی دفاع، ڈرون اور میزائل حملوں کی روک تھام، بحری نگرانی اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کے تحفظ پر مرکوز ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ ممکنہ منظرنامے ہیں، حتمی تعیناتی کا اعلان نہیں۔ حوثیوں کی منتشر جنگی ساخت اور کم لاگت ڈرون و میزائل صلاحیتوں کے باعث صرف روایتی فوجی طاقت ان کے حملے مکمل طور پر روکنے کی ضمانت نہیں۔




