ایران کی سرحد بند کرنے کی دھمکی
اسلام آباد/تہران: ایران پاکستان کے ساتھ زمینی سرحد اپنی جانب سے بند کرنے پر غور کر سکتا ہے، اگر پاکستان ایرانی ٹرکوں کی آمدورفت پر پابندی برقرار رکھتا ہے۔ ایرانی رکنِ پارلیمنٹ اور ایران پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کے سربراہ فدا حسین ملکی نے جمعرات، 22 اکتوبر 2026 کو کہا کہ ان کے علم کے مطابق پاکستان میں پھنسے ٹرکوں کو ایران داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے، لیکن ایران سے پاکستان آنے والی تجارتی گاڑیوں کی نقل و حرکت بدستور محدود ہے۔ انہوں نے اس صورتِ حال پر پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تہران میں ملاقات کے دوران بھی بات کرنے کا ذکر کیا۔ تاہم، ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کی دھمکی کو دونوں حکومتوں کے درمیان باضابطہ سرحد بند کرنے کے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
تنازع کی وجوہات: سکیورٹی بمقابلہ تکنیکی رکاوٹیں
پاکستان نے 17 اکتوبر کو تفتان اور گبد۔ریمدان کے راستوں سے تجارتی سرگرمیاں معطل کیں۔ پاکستانی حکام نے سکیورٹی، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی انتظام بہتر بنانے کو اہم وجوہات قرار دیا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے تکنیکی مسائل اور احتیاطی اقدامات کا حوالہ دیا۔ بعض ایرانی تجارتی نمائندوں نے بینکاری پابندیوں اور درآمدی دستاویزات کے طریقۂ کار کو بھی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ یوں یہ معاملہ صرف ٹرکوں کی آمدورفت نہیں بلکہ کسٹمز کلیئرنس، مالیاتی لین دین اور سرحدی نگرانی کے نظام سے بھی جڑا ہے۔
تکنیکی اور معاشی اثرات
سرحدی تجارت میں تاخیر سے مال برداری کی لاگت، ٹرکوں کے یومیہ اخراجات، خراب ہونے والی اشیا کے نقصان اور ترسیلی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے۔ پاکستان کے لیے ایران سے آنے والی مائع پیٹرولیم گیس (LPG) کی رسد اور چاول سمیت پاکستانی برآمدات کی روانی اہم ہے۔ تجارتی حلقوں نے ہزاروں گاڑیوں کے پھنسنے اور بھاری مالی نقصان کی اطلاع دی ہے، اگرچہ گاڑیوں کی تعداد اور پابندیوں کی تازہ صورتِ حال مختلف رپورٹس میں مختلف ہے۔
پاکستان کے لیے سفارتی راستہ
فوری حل کے لیے دونوں ممالک کو کسٹمز کلیئرنس کا مشترکہ طریقۂ کار، درآمدات اور برآمدات کے لیے واضح قواعد، ٹرکوں کی مرحلہ وار نقل و حرکت اور ہنگامی رابطہ نظام طے کرنا ہوگا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے تناظر میں یہ تنازع دوطرفہ اعتماد اور علاقائی سفارت کاری کے لیے بھی اہم ہے۔ سرحد کو مزید بند کرنا دونوں ملکوں کے تاجروں، ڈرائیوروں اور مقامی معیشتوں کے نقصان میں اضافہ کر سکتا ہے۔




