اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے 250 ملین ڈالر کے موسمیاتی مزاحمت قرضے کی تجویز پیش کی

ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے پاکستان کے لیے $250 ملین کا پالیسی قرضہ پیش کیا ہے، مقصد موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے خلاف ادارہ جاتی اصلاحات، سرمایہ کاری اور خطرے کے مالیاتی میکانزم کو مضبوط بنانا ہے۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے 6 اگست 2026 کو پاکستان کے لیے $250 ملین کا پالیسی پر مبنی قرضہ پیش کیا ہے جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے مقابلے میں ملک کی مزاحمت کو ادارہ جاتی اصلاحات، موسمیاتی مزاحم سرمایہ کاری اور آفات کے مالیاتی اقدامات کے ذریعے مضبوط کرنا ہے؛ وزارتِ خزانہ اس قومی پروگرام کی اجرایتی ایجنسی ہوگی۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے ایک نیا $250 ملین پالیسی پر مبنی قرضہ تجویز کیا ہے جس کا نام “Climate and Disaster Resilience Enhancement Program, Subprogram 2” رکھا گیا ہے۔ پیشن کردہ قرضہ اے ڈی بی کے ordinary capital resources کے ذریعے، بشمول concessional lending، فنڈ کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق پروگرام کا مرکزی ہدف موسمیاتی تبدیلی سے وابستہ خطرات اور قدرتی آفات کے لیے تیاری اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے لیے ادارہ جاتی منصوبہ بندی اور ایمرجنسی رسپانس نظام میں بہتری، خطرے میں کمی اور موسمیاتی مزاحمت میں سرمایہ کاری میں اضافہ، اور خطرے کی سطح پر مبنی فنانسنگ فریم ورک کے ذریعے آفات کے مالی امداد کے دائرہ کو وسعت دینے کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔

وزارتِ خزانہ اس پروگرام کی اجرایتی ایجنسی ہوگی اور پورے ملک میں نفاذ کی نگرانی کرے گی۔ اے ڈی بی نے واضح کیا ہے کہ یہ پروگرام پاکستان کے Vision 2025، National Climate Change Policy، National Adaptation Plan، updated Nationally Determined Contribution، اور Resilient Recovery, Rehabilitation and Reconstruction Framework کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

اے ڈی بی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تجویز کردہ پروگرام آفات کی تیاری کو مضبوط بنائے گا، موسمیاتی مزاحم سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار اور عوامی بنیادی ڈھانچے کا تحفظ کرے گا، اور نیچرل ڈیزاسٹر کے بعد تیز بحالی کے لیے مالی تک رسائی اور سوشل پروٹیکشن اقدامات کو بہتر بنائے گا۔

مزید برآں، یہ اقدام اے ڈی بی کی پاکستان کے لیے Country Partnership Strategy اور بینک کی وسیع ترقیاتی ترجیحات کی حمایت کرتا ہے، جن میں غربت میں کمی، موسمیاتی مزاحمت، خوراک کی سیکیورٹی، صنفی مساوات، اور حکمرانی اصلاحات شامل ہیں۔

اب تک منظرِ عام پر آنے والی معلومات کے مطابق یہ پروگرام زیرِ غور ہے اور آئندہ مراحل میں فنڈنگ، شرائط اور عمل درآمد کے تکنیکی پہلوؤں پر مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1536