سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ دنیا کا پہلا فعال بیکٹیریوفیجز بنا لیا

Stanford کی ٹیم نے AI استعمال کرکے فعال بیکٹیریوفیج بنائے جو مزاحم E. coli کو لیبارٹری میں ہلاک کر سکے؛ مگر اس پیش رفت نے بائیو سیفٹی اور سیکیورٹی خدشات بھی اجاگر کر دیے ہیں۔

سٹینفرڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر برائن اور اُن کی ٹیم نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے دنیا کے پہلے فعال بیکٹیریوفیجز (بیکٹیریا کو متاثر کرنے والے وائرس) کا ڈیزائن لیبارٹری میں تیار کرکے آزما لیا، مصنوعی طور پر ڈیزائن کیا گیا وائرس ایسے ’’ای کولی‘‘ جراثیم کو مارنے میں کامیاب رہا جو قدرتی فاجز کے خلاف مزاحم تھے تاہم اِس کامیابی نے بائیو سیفٹی اور سکیورٹی کے نئے خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) پراجیکٹ میں ڈاکٹر برائن اور اُن کی ٹیم نے جینوم زبان ماڈلز استعمال کرتے ہوئے فعال بیکٹیریوفیج جینوم ڈیزائن کیے۔ یہ ماڈلز جینیاتی سلسلوں کے ساتھ اسی طرح کام کرتے ہیں جیسے بڑے زبان ماڈلز متن کو پروسیس اور تیار کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق محققین نے ڈیزائن کیے گئے جینوم لیبارٹری میں تیار کیے اور انہیں ای کولی کے خلاف آزمایا۔ تجربات میں وہ فاجز کامیاب رہے جو ایسے ای کولی کو ہلاک کر گئے جو قدرتی بیکٹیریوفیج کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے تھے۔ محققین نے کہا کہ مخصوص جراثیم کے لیے تیزی سے جینوم ڈیزائن کرنے اور مزاحمت کو عبور کرنے کی صلاحیت فاج تھراپی کو بدل سکتی ہے اور بائیوٹیکنالوجی کے آلات کو وسیع کر سکتی ہے۔

تاہم اس پیشرفت کے ساتھ بائیوسکیورٹی، بائیوکونٹینمنٹ اور بائیو سیفٹی کے سنگین خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ محققین نے تجویز کیا کہ پورے جینوم کے ڈیزائن پر کام کرنے والے سائنسدان اپنے منصوبوں میں ابتداء ہی سے حفاظت اور سکیورٹی ماہرین کو شامل کریں۔

اُنہون نے خبردار کیا کہ جنریٹو اے آئی اب فعال وائرس جینومز تیار کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے جبکہ گورننس کے میکانزم ابھی اس صلاحیت کے مطابق تیار نہیں ہوئے۔

بعض محققین نے تحقیق کو متاثرکُن قرار دیا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ بیکٹیریوفیجز کے جینوم چونکہ بہت چھوٹے اور نسبتاً سادہ ہوتے ہیں اِس لیے زیادہ پیچیدہ جانداروں کا ڈیزائن کہیں زیادہ مشکل ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ خطرناک جینیاتی معلومات تک رسائی محدود کرنا اور مشکوک جینوم سنتھیسز درخواستوں کی سکریننگ خطرات کو کم کر سکتی ہے اور ساتھ ہی موجودہ پاتھوجینز میں ترامیم ایک فوری اور آسان خطرہ رہتی ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ریگولیشن کو صرف اے آئی ماڈلوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ماڈل ڈویلپمنٹ، رسائی، تحقیقی نگرانی، ڈی این اے سنتھیسز سکریننگ اور لیبارٹری بائیو سیفٹی و بائیو سییکیورٹی عمل شامل کرنے والا تہہ دار نقطۂ نظر اپنانا چاہیے۔

تحقیق کے امکانات اور خطرات کے درمیان توازن اور مضبوط حفاظتی فریم ورک اب سائنس اور پالیسی دونوں میں فوری توجہ طلب ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516