پاکستان میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں نو بیاہتا دلہن اور اُس کے خاندان نے دعویٰ کیا کہ شادی کو ایک ماہ ہی گزرا ہے مگر ڈاکٹر نے کہا وہ دو ماہ کی حاملہ ہے۔ ڈاکٹروں نے وضاحت کی کہ طبی طور پر حمل کی گنتی آخری ماہواری کے پہلے دن سے کی جاتی ہے، جس کی وجہ اوویولیشن اور 40 ہفتوں کا طبی معیار ہے۔
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک نو بیاہتا دلہن کی سسکیوں کے ساتھ ایک مردانہ آواز سنائی دیتی ہے کہ اُس کی شادی کو تو ابھی صرف ایک مہینہ ہوا ہے تو حمل کیسے دو مہینے کا ہو سکتا؟ ویڈیو میں لیڈی ڈاکٹر خاندان کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ خاتون کی گذشتہ ماہواری کی تاریخ شادی سے عین پہلے تھی، اِسی لیے طبی حساب کے مطابق وہ دوسرا مہینے میں شمار ہو رہی تھیں۔
ویڈیو میں ڈاکٹر یہ بھی بتاتی ہیں کہ آپ لوگوں کے نو ماہ پورے کرنے ہوتے ہیں جبکہ ڈاکٹروں نے 10 ماہ، اِس لیے حمل گذشتہ ماہواری کی تاریخ سے گنا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نے خاندان کو یقین دلایا کہ یہ بچہ اُن ہی کا ہے اور کہا کہ اگر شک ہو تو پیدائش کے بعد بچے کا ڈی این اے کروا لیں۔
ماہرین کے مطابق طب میں حمل کے ہفتوں کا حساب حاملہ خاتون کی آخری ماہواری کے پہلے دن سے شروع کیا جاتا ہے، اس لیے طبی طور پر کسی خاتون کو حمل ٹھہرنے سے تقریباً دو ہفتے پہلے ہی حاملہ شمار کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ایک نارمل صحت مند حمل کے لیے عمومی طور پر بہترین مدت 40 ہفتے مانی جاتی ہے جو پچھلے ماہواری کے چار ہفتے شامل کرنے کے بعد مجموعی طور پر 10 ماہ بنتی ہے۔
ابتدائی الٹراساؤنڈ سکین میں جنین کے سائز کے تحت متوقع تاریخِ ولادت کی تصدیق یا ترمیم کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ عمومی ماہواری کا چکر 28 دن کا ہوتا ہے تاہم اگر سائیکل مختلف ہو یا اوویولیشن جلدی یا دیر سے ہو تو متوقع تاریخ میں تبدیلی ضروری ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر شمائلہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں گائنی ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ اور سینئیر گائناکالوجسٹ ہیں، اُنہوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی ماہواری سے اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ماں پچھلے سائیکل کے اوویولیشن دن پر حاملہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عموماً اگلی ماہواری سے 14 دن پہلے کا وقت ہوتا ہے، یہ بین الاقوامی اصول ہے کہ حمل کی مدت پچھلی ماہواری کے پہلے دن سے شمار ہوتی ہے۔‘
ڈاکٹر شمائلہ نے عوامی فہم کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں عام لوگ اس سائنسی طریقے کا علم نہیں رکھتے۔ او پی ڈیز میں آنے والی لگ بھگ نصف خواتین کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا۔ اور دور دراز علاقوں کو شامل کر لیں تو یہ شرح 90 فیصد تک چلی جاتی ہے۔‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’لڑکیوں کی شادی ماہواری کے فوراً بعد نہیں کرانی چاہیے تاکہ اُنہیں سسرال میں کم از کم ایک بار ماہواری ضروری آجائے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر معاشرتی رویوں اور طبی معلومات کی وضاحت کی ضرورت پر بحث کا سبب بنا ہے اور ڈاکٹروں نے بھی مریضوں کو سماجی پس منظر کے مطابق بات واضح کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔




