فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور جنرل سلجوق بایراکتاراوغلو کی مضبوط دوستی سے مکہ دفاعی معاہدے تک

پاکستان اور جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو کے درمیان موجودہ عسکری رابطے کا ایک اہم مرحلہ جنوری 2026 میں سامنے آیا، جب ترک چیف آف جنرل اسٹاف نے عاصم منیر کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔ راولپنڈی میں دونوں عسکری سربراہوں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ترک عسکری قیادت کا بڑھتا ہوا رابطہ مکہ دفاعی معاہدے کا نیا باب

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ترکیہ میں حالیہ سرگرمیاں پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور تزویراتی کردار کو نمایاں کر رہی ہیں۔ استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کی، جبکہ ترکیہ کی جانب سے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو شریک ہوئے۔

پاکستان اور جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو کے درمیان موجودہ عسکری رابطے کا ایک اہم مرحلہ جنوری 2026 میں سامنے آیا، جب ترک چیف آف جنرل اسٹاف نے عاصم منیر کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔ راولپنڈی میں دونوں عسکری سربراہوں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ رابطہ اب مکہ دفاعی معاہدے کے وسیع تر فریم ورک میں داخل ہو چکا ہے۔ 7 اگست 2026 کو پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ معاہدہ دفاعی صنعت، فوجی انٹرآپریبلٹی اور مشترکہ سکیورٹی تعاون کو بھی فروغ دیتا ہے۔

استنبول اجلاس میں مشترکہ مشقوں، دفاعی پیداوار، تحقیق، ٹیکنالوجی اور انسدادِ دہشت گردی تعاون کو عملی شکل دینے پر توجہ دی گئی۔

پاکستان کے لیے اس شراکت داری کی اہمیت صرف عسکری تعاون تک محدود نہیں؛ یہ اسلام آباد کو ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ علاقائی امن، دفاعی سفارت کاری اور مشترکہ سکیورٹی پالیسی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236