چین کے ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر دوڑ 9.39 سیکنڈ میں مکمل کر کے یوسین بولٹ کے انسانی ریکارڈ سے تیزی دکھائی

چین کے ’ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز‘ میں ایک روبوٹ نے 100 میٹر 9.39 سیکنڈ میں مکمل کی، آنر نے ٹرائل میں 9.32 کا دعویٰ کیا، روبوٹس کی تیز ترقی اور ممکنہ صنعتی استعمال پر توجہ۔

چین میں منعقدہ ’ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز‘ میں ایک انسان نما روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ 9.39 سیکنڈ میں طے کی، جب کہ جمیکا کے رنر یوسین بولٹ کا انسانی عالمی ریکارڈ 9.58 سیکنڈ ہے۔

چین میں منعقدہ ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے دوران بیجنگ ہیومنائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کے تیار کردہ ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ 9.39 سیکنڈ میں طے کیا، جو انسانی سطح کے موجودہ عالمی ریکارڈ سے تیز سمجھا جا رہا ہے۔ یہ مقابلہ تکنیکی کمپنیوں اور یونیورسٹی گروپس کے روبوٹس کے درمیان رفتار، توازن اور حرکی ہم آہنگی کی جانچ کے سلسلے کا حصہ تھا۔

چینی سمارٹ فون ساز کمپنی آنر نے بھی کہا ہے کہ اس کے تیار کردہ روبوٹ نے مقابلے کے آغاز سے قبل ایک ٹرائل دوڑ میں 100 میٹر 9.32 سیکنڈ میں طے کیا تھا، جو رسمی مقابلے کے وقت سے بھی تیز تھا۔ آنر کا روبوٹ اس سے پہلے اپریل میں بیجنگ میں منعقدہ نصف میراتھن یعنی 21 کلومیٹر کے رؤپ میں بھی دوڑا تھا اور اس نے 50:26 منٹ کا وقت ریکارڈ کیا تھا، جس سے چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی تیز ترقی کی توجہ بڑھی۔

چین کے سرکاری ذرائع کے مطابق میراتھن میں شریک روبوٹ کا قد 169 سینٹی میٹر اور ٹانگوں کی لمبائی 95 سینٹی میٹر تھی۔ گیمز کے آغاز سے قبل محققین نے اس کی ٹانگوں میں مزید 10 سینٹی میٹر اضافہ کر کے انہیں ایک میٹر 5 سینٹی میٹر تک بڑھا دیا تاکہ دوڑ میں کارکردگی بہتر ہو سکے۔

مقابلے صرف دوڑ تک محدود نہیں تھے؛ روبوٹس باکسنگ اور فٹبال جیسے مقابلوں میں بھی حصہ لے رہے تھے اور روزمرہ کے کام جیسے کپڑے تہہ کرنا بھی پرکھے جا رہے تھے۔ منتظمین کے مطابق ایونٹ کا مقصد رفتار کے علاوہ توازن، حرکت کا کنٹرول اور پیچیدہ کاموں کی انجام دہی میں پیشرفت دکھانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مظاہرے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سینسر ٹیکنالوجی، بیٹری اور ہارڈویئر میں ہونے والی پیش رفت کا نتیجہ ہیں۔ چند سال پہلے تک ہیومنائیڈ روبوٹس کو طویل فاصلے یا مستحکم توازن برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آتیں، مگر نئی ٹیکنالوجیز نے یہ حدود کم کر دی ہیں۔

چینی پالیسی ساز اور کمپنیز ہیومنائیڈ روبوٹکس کو ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک صنعت کے طور پر ترجیح دے رہے ہیں اور توقع ہے کہ پیداواری، لاجسٹکس، خدمات اور روزمرہ کے کاموں میں ان روبوٹس کا استعمال تیز رفتار بڑھے گا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515