لیڈز میں پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں ایک اننگز اور 103 رنز کی شکست، کرکٹ حلقوں میں شدید تشویش

لیڈز کے ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان کو انگلینڈ نے ایک اننگز اور 103 رنز سے ہرایا؛ شائقین، سابق کھلاڑی اور مبصرین پیس بولنگ، فیلڈنگ اور ٹیم کی تشکیل پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔

لیڈز کے ہیڈنگلے اسٹیڈیم میں پاکستانی ٹیسٹ ٹیم نے تیسرے روز انگلینڈ کے ہاتھوں ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست کھائی؛ پاکستان دونوں اننگز میں 171 اور 135 رنز پر آؤٹ ہوا جبکہ انگلینڈ نے ایک مرتبہ بیٹنگ کر کے 409 رنز بنائے۔

انگلینڈ کے خلاف لیڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی یہ بھاری شکست شائقین، سابق کھلاڑی اور برطانوی میڈیا کی تنقید میں شدت کا باعث بنی ہے۔ پاکستانی ٹیم مجموعی طور پر صرف 85 اوورز بیٹنگ کر سکی۔

بی بی سی اردو کی نمائندہ رپورٹ کے مطابق برطانوی حلقوں میں یہ رائے عام ہے کہ ’یہ 50 برس کے دوران انگلینڈ آنے والی پاکستان کی سب سے کمزور ٹیم ہے‘ اور سیریز تین، صفر جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ یہ تنقید خاص طور پر پیس بولنگ کی کم رفتار اور ناقص فیلڈنگ پر مرکوز رہی۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے بی بی سی کے ’ٹی ایم ایس‘ سے گفتگو میں کہا کہ انھیں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر ’واقعی تشویش‘ ہے اور ہیڈنگلے میں ٹیم کو بری طرح پچھاڑ دیا گیا۔ وان نے کہا: ’میں نے کبھی انھیں اتنا خوف زدہ نہیں دیکھا۔ مہارت اور معیار کے اعتبار سے دونوں ٹیموں میں واضح فرق تھا۔‘

سابق کپتان رمیز راجہ نے بھی کہا کہ حالات مزید بگڑتے جا رہے ہیں اور شائقین مایوس ہو چکے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا: ’اگر آپ گذشتہ 20 ٹیسٹ میچوں میں سے 17 ہار جائیں تو کوئی بھی اس ٹیم کی حمایت نہیں کرے گا۔‘

کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بولنگ اٹیک میں شاہین آفریدی اور نسیم شاہ جیسے فاسٹ بولرز اکثر دستیاب نہیں رہے، جبکہ بعض کھلاڑیوں کو مختصر فارمیٹس میں ترجیح ملنے کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ کم ہوئی ہے۔ سنہ 2023 کے بعد پاکستان کی پانچ فتوحات میں سے چار گھریلو حالات میں آئیں، جہاں سپننگ پچوں کو فوقیت دی گئی۔ سنہ 2024 میں انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پچ تیار کرنے کے لیے صنعتی پنکھے، ہیٹرز اور ونڈ بریکس کے استعمال کی مثال بھی دی گئی۔

ہاتھ کی چوٹ کی وجہ سے یہ ٹیسٹ نہ کھیلنے والے بابر اعظم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ٹیسٹ بیٹنگ رینکنگ میں ٹاپ 25 میں شامل واحد پاکستانی بلے باز ہیں۔ موجودہ ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) رینکنگ میں پاکستان کا پوائنٹ آخری گروپ میں دکھائی دیتا ہے۔

کپتان سلمان علی آغا نے دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ’ری بلڈنگ‘ کے دور سے گزر رہی ہے اور ’’یہ مستقبل کے بارے میں فکر کرنے کا وقت نہیں، بلکہ مستقبل بنانے کا وقت ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ٹیم ہیڈنگلے میں اپنے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے۔

بی بی سی نے واضح کیا ہے کہ سابق کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں سے بات چیت میں پاکستان کرکٹ کی کمزوریوں اور ممکنہ اصلاحات پر تبادلۂ خیال جاری ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515