وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے اسلام آباد کی ایک نجی رہائشی سوسائٹی کے پلازہ میں چھپے ہوئے 50 مزید غیر ملکی شہری گرفتار کر کے اُنہیں جیل منتقل کر دیا ہے، یہ کارروائی غیر قانونی کال سینٹروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ ملزمان پر بیرونِ ملک کے افراد کے خلاف آن لائن فراڈ، بلیک میل اور فحش مواد سے کمائی کے الزامات ہیں۔
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایف آئی اے نے غیر قانونی کال سینٹروں کے خلاف جاری مہم کے دوران گرفتار کیے گئے مزید 50 غیر ملکی شہریوںکو عدالتوں کے حکم پر جیل بھیج دیا ہے۔ ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ یہ افراد ایک نجی رہائشی سوسائٹی کے اندر موجود پلازہ میں چھپے ہوئے پائے گئے۔
ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں گرفتار کیے گئے 250 غیر ملکی شہریوں کو اڈیالہ اور اٹک جیلوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ حکام نے گرفتار شدگان کے خلاف ڈی پورٹیشن کا عمل بھی شروع کر دیا ہے اور پہلے بیچ میں 50 ویتنامی شہری پاکستان سے ڈی پورٹ کیے جا چکے ہیں۔
ایک طرف ایف آئی اے کی کاروائیاں جاری ہیں تو دوسری طرف نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسلام آباد میں تین مختلف آپریشنز کے دوران سینکڑوں غیر ملکی شہری حراست میں لیے۔ ملزمان پر بیرونِ ملک مقیم افراد کو آن لائن فراڈ اور بلیک میل کرنے اور فحش مواد کے ذریعے رقم ہتھیانے کے الزامات ہیں۔
حکام نے بتایا ہے کہ اِس تفتیش کو وسیع کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے تاکہ کال سینٹروں کے مالی، انفراسٹرکچر اور قانونی پہلوؤں کی جانچ کی جا سکے۔
اب تک گرفتار کرتے ہوئے مبینہ طور پر غیر قانونی کال سینٹرز چلانے کے الزام میں پکڑے گئے 671 غیر ملکی شہریوں کو غیر ملکی بلیک لسٹ پر ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وہ دوبارہ پاکستان نہ آ سکیں۔ دفترِ خارجہ بھی متعلقہ ملکوں کو اِن شہریوں کے مبینہ جرائم کی اطلاعات فراہم کر رہا ہے۔
فیصلہ کُن تفتیش بدستور جاری ہے جس میں کال سینٹرز کے آپریٹروں، ممکنہ مقامی رابطے اور مالی لین دین کی تفصیلات کی چھان بین شامل ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف شواہد اکٹھے ہونے پر مزید قانونی کارروائی اور ڈی پورٹیشنز کی اگلی کھیپ جلد متوقع ہے۔




