پشاور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں غیر واضح ٹیکس کی وصولی روک دی

پشاور ہائی کورٹ نے بجلی کے بلوں میں تفصیل کے بغیر شامل کیے گئے ٹیکسز کی وصولی روک دی، اسی نوعیت کی درخواستیں یکجا کر کے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے؛ سماعت 2 ستمبر تک ملتوی۔

پشاور ہائیکورٹ نے ایسے بجلی کے بلوں سے ٹیکس اور لِیویز کی وصولی روک دی ہے جن میں چارجز بل پر تفصیل یا وضاحت شامل نہ کی گئی ہو کہ وہ ٹیکس کیا ہے۔ عدالت نے اِسینوعیت کی دیگر درخواستیں یکجا کر کے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے اور سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

پشاور ہائیکورٹ نے ایک درخواست پر تحریری حکم میں ہدایت دی کہ جن صارفین کے بجلی کے بلوں میں اضافی چارجز تفصیل کے بغیر شامل کیے گئے ہوں، اُن کی وصولی معطل رکھی جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کے بل میں اچانک عائد کیے گئے اضافی ٹیکسوں کی مثال پیش کیے جانے پر یہ قدم اٹھایا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں تاہم اگست کے بل میں بغیر وضاحت کے نئے ٹیکس دکھائی دیے۔ متعلقہ حکام نے درخواست گزار کو بل پر درج بارکوڈ کو ڈیکوڈ کرنے کے لیے کہا، جس کے بعد معلوم ہوا کہ بل میں “ایکسٹرا ٹیکس” اور “فردر ٹیکس” عائد کیے گئے تھے۔ درخواست گزار نے کہا کہ یہ ٹیکس پہلے کبھی بلوں میں ظاہر نہ ہوئے اور اِن کے نفاذ کے بارے میں کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔

عدالت نے عرضی گزار کے بل سے اِن غیر واضح چارجز کی وصولی عارضی طور پر روک دی اور اِسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کو بھی یکجا کر کے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ مزید سماعت 2 ستمبر کو ہوگی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1518