روسی میڈیا اور جیو نیوز کے حوالے سے رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران نے نئی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے اور اِس کا سرکاری اعلان چند روز میں متوقع ہے، معاہدے میں آبنائے ہرمز سے آزادانہ بحری گزرگاہ بھی شامل بتائی گئی ہے۔
روسی میڈیا کے دعوے کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق طے پا گیا ہے اور اِس معاہدے کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ جیو نیوز نے روسی میڈیا اور اُس کے ایرانی اور پاکستانی ذرائع کے حوالے سے یہ معلومات جاری کیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ جنگ بندی میں آبنائے ہرمز سے آزادانہ نیوی گیشن کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ فنی اور تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ اعلان کے بعد جاری رکھا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پچھلے چند ہفتوں میں دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثوں کے ذریعے ڈیل طے کرنے کی متعدد کوششیں ہوئیں تاہم اب تک واضح کامیابی سامنے نہیں آئی تھی۔ اسی پس منظر میں روسی ذرائع کے دعوے کو شائع کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ کم و بیش دو ماہ قبل جون کے وسط میں دونوں ممالک نے اسلام آباد میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت امن معاہدے کی بنیاد رکھی گئی، تاہم تقریباً ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔
کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کا حالیہ سرکاری دورہ ایران اُس پیشرفت کا ایک عنصر ثابت ہوا۔ اُن کی ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں سپریم لیڈر کے نمائندے محسن رضائی، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ سکندر مومنی شامل تھے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور عالمی خبر رساں اداروں کی طرف سے دورے کے دوران مثبت پیشرفت ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور کہا جا رہا تھ کہ آئندہ چند روز میں پیش رفت منظرِ عام پر آنے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ روز قبل ہی امریکی وزیرِ خزانہ نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا جبکہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اقتصادی مہم چلانے کا عندیہ دیا تھا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اِس قسم کے اقدامات کو تسلیمِ شکست کے مترادف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ داخلی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اب تک واشنگٹن اور نہ ہی تہران کی طرف سے اِس مبینہ جنگ بندی کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے آئی ہے لہٰذا صورتِحال کے بارے میں حتمی رائے کے لیے سرکاری بیانات کا انتظار ضروری ہے۔




