چنئی (ویب ڈیسک) بھارت کے معروف انسٹاگرام فنانس انفلوئنسر وی ہریش کے گھر میں مردہ پائے جانے کے بعد ان کے والد نے آن لائن ہراسانی اور ہتک آمیز پوسٹس کو ان کی موت کا سبب قرار دیتے ہوئے ایک شخص کے خلاف ریفرنس درج کرایا ہے۔
بھارتی ریاست تمل ناڑو کے دارالحکومت چنئی کے قریب واقع علاقے میں انسٹاگرام اکاؤنٹ ‘فنانس ود ہریش’ چلانے والے 27 سالہ وی ہریش منگل کی صبح اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔ ہریش نے تقریباً پانچ سال قبل مالیاتی مشورے دینے والی ویڈیوز بنانا شروع کیں اور انسٹاگرام پر ان کے 13 لاکھ سے زائد فالورز تھے۔
بی بی سی اردو کے مطابق ہریش کے والد جے ونایاگم نے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے اور اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ‘سائبر ہراسانی، سوشل میڈیا پر ہتک آمیز پوسٹس اور ان کے چینلز کی بار بار بندش’ نے ان کے بیٹے پر دباؤ بڑھایا۔ شکایت میں جیسن سیموئل نامی یوٹیوبر کو نامزد کیا گیا ہے اور پولیس نے اطلاع دی ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد سیموئل کو گرفتار کر لیا گیا۔
ماخذوں کا کہنا ہے کہ ستمبر میں میٹا نے ہریش کا اصل انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل کر دیا تھا جب ان کے خلاف یہ دعویٰ سامنے آیا کہ وہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔ بعد ازاں ہریش کے متبادل اکاؤنٹس بند کر دیے گئے۔ ہریش نے اپنی ویڈیوز میں بازار، سونا اور چاندی وغیرہ پر تبصرے کیے اور مجموعی طور پر وہ 1,500 سے زائد ویڈیوز شائع کر چکے تھے۔
ہریش کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر ان کا ایک ویڈیو پیغام بھی وائرل ہوا، جس میں وہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ‘میری پانچ سال کی محنت چھین لی گئی ہے’ اور آخر میں انگریزی میں مخاطب ہو کر ‘آئی ایم ویری ساری’ کہتے ہیں۔
جیسن سیموئل نے ایک ویڈیو میں ہریش کی پیشہ ورانہ اہلیت پر سوال اٹھایا تھا اور بعد ازاں ایکس پر تردید بھی کی کہ وہ کسی غلط کام میں ملوث نہیں۔ بی بی سی تمل نے سیموئل سے مؤقف لینے کی کوشش کی مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔
یہ واقعہ بھارت میں مالیاتی انفلوئنسرز کی بڑھتی ہوئی اثر و رسوخ اور آن لائن تنقید و شکایات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جب کہ متاثرہ خاندان مکمل تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔




