لاہور ٹریفک پولیس کا تیز رفتاری پر ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا اعلان

لاہور ٹریفک پولیس نے اووراسپیڈنگ روکنے اور سڑک تحفظ بہتر بنانے کیلئے ڈرائیورز کے خلاف ایف آئی آرز درج کرنے، ڈرائیور فٹنس سرٹیفکیٹ اور موبائل میڈیکل کیمپس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) لاہور ٹریفک پولیس نے سڑکوں کی حفاظت بہتر بنانے کے لیے اووراسپیڈنگ پر ڈرائیورز کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز) درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور ٹریفک پولیس نے سڑک حادثات کم کرنے اور ٹریفک قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے نئی حفاظتی تدابیر کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اووراسپیڈنگ کے مرتکب ڈرائیورز کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز) درج کی جائیں گی۔

یہ اقدامات پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کے ’سیف پنجاب، سیف روڈز‘ وژن کے تحت متعارف کروائے جا رہے ہیں، اور ان کی تفصیلات چیف ٹریفک آفیسر لاہور کے اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں شیئر کی گئیں۔

مطالبہ یا مجوزہ ضوابط میں یہ بھی شامل ہے کہ ڈرائیورز کو گاڑیوں کی طرح فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے ضمن میں موبائل میڈیکل کیمپس قائم کیے جائیں گے جہاں ڈرائیورز کے طبی اور نفسیاتی معائنے کیے جائیں گے۔ معائنہ میں آنکھوں کی بینائی، رنگوں کی پہچان (کلرز بلائنڈنس)، عمومی طبی فٹنس اور نفسیاتی صحت شامل ہوں گی۔

ٹریفک پولیس نے ٹرانسپورٹرز کو اپنے ڈرائیورز کے مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ جوابدہی اور حفاظتی اقدامات میں بہتری لائی جا سکے۔ پروپکستانی کے مضمون میں یہ بھی ذکر ہے کہ ’رشوت نہ دینے پر بھی ایف آئی آرز درج کیے جانے چاہئیں۔‘ اس جملے میں واضح طور پر کہا گیا مگر اس حوالے سے کس ادارے نے ہدایت دی ہے، مضمون میں براہِ راست وضاحت موجود نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حادثات کی روک تھام اور ڈرائیوروں کی اہلیت و فٹنس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہیں۔ ذرائع میں بتایا گیا کہ سموگ اور روڈ سیفٹی سے متعلق دیگر خدشات پر بھی میٹنگ میں بات چیت ہوئی۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ نئے قوانین یا ضوابط کے نفاذ کے لیے کون سی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور ان کے خلاف اگر کسی قسم کی اپیل یا قانونی کارروائی ہوگی تو اس کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ مزید تفصیلات اور نفاذ کی تاریخ متعلقہ شعبہ جات کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشنز میں متعین کی جائیں گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2742