استنبول میں عالمی طاقتوں کا ہنگامی سفارتی محاذ؛ ایران جنگ روکنے اور سمندری راستے بچانے کی کوشش”
استنبول،(ویب ڈیسک) 23 اکتوبر 2026: ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان کی میزبانی میں پاکستان، مصر، سعودی عرب، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ نے علاقائی تنازعات اور عالمی بحری تجارت کو درپیش خطرات پر مشاورت کی۔ یہ اجلاس چار علاقائی ممالک کے گروپ R4 اور یورپی ممالک کے E3 کے درمیان وسیع تر رابطے کی اہم پیش رفت ہے؛ اٹلی بھی اس مشترکہ نشست میں شریک تھا۔ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ، آبنائے ہرمز کی سلامتی، یمن اور بحیرۂ احمر کی صورتِ حال، فلسطینی مسئلہ اور روس یوکرین جنگ کے اثرات زیرِ بحث آئے۔
پاکستان کا کردار: ثالثی اور علاقائی استحکام
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی شرکت اسلام آباد کی اس سفارتی کوشش کو نمایاں کرتی ہے جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنا، مذاکرات کے راستے کھلے رکھنا اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ مضبوط بنانا ہے۔ چار ملکی R4 گروپ کے مشترکہ بیان میں ایران سے متعلق تنازع کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے نکالنے، شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے پر زور دیا گیا۔
تکنیکی پہلو: آبنائے ہرمز اور باب المندب کیوں اہم ہیں؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرۂ عمان سے ملاتی ہے اور عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ دوسری جانب، باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے جوڑتا ہے؛ عالمی بحری تجارت کا تقریباً 12 فیصد اس گزرگاہ سے وابستہ ہے۔ ان راستوں میں رکاوٹ سے جہازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے ایندھن، مال برداری، بیمہ اور ترسیل کے اخراجات بڑھتے ہیں۔ توانائی، کھاد اور خوراک کی عالمی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ وزارتی ملاقاتیں سفارتی رابطے اور مشترکہ مؤقف بنانے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہیں، مگر اجلاس بذاتِ خود جنگ بندی یا کسی حتمی معاہدے کی ضمانت نہیں۔ ترکیہ نے دوبارہ حملوں کے بجائے سفارت کاری پر زور دیا، جبکہ فرانس نے خبردار کیا کہ نئی کشیدگی عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔




