بھارت کے عظیم اداکار نصیر الدین شاہ نے (بی جے پی) کو ‘سراسر جھوٹی پارٹی‘ قرار دے دیا

نصیرالدین شاہ نے SRFTI کے احتجاجی طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے BJP پر دباؤ اور خوف کے الزامات لگائے۔ جانیں تنازع، شوکاز نوٹسز اور آزادیِ اظہار کے اہم پہلو۔

فلمی تعلیم یا نظریاتی کنٹرول؟ نصیرالدین شاہ کی (بی جے پی) پر کڑی تنقید

کولکتہ،(ویب ڈیسک) 24 اکتوبر 2026 — معروف بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ نے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) کے احتجاجی طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اختلافی آوازوں کو دبانے اور نوجوان فلم سازوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے ویڈیو بیان میں طلبہ کو مبینہ طور پر جاری کیے گئے شوکاز نوٹسز، نگرانی، دھمکیوں اور ہاسٹل خالی کرنے کے احکامات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ شاہ کے مطابق، تخلیقی شعبوں میں نظریاتی دباؤ مستقبل کے فن کاروں کی آزادی کو محدود کر سکتا ہے۔

احتجاج کی ابتدا کیسے ہوئی؟

کولکتہ میں واقع (ایس آر ایف ٹی آئی) میں تنازع 27 ستمبر 2026 کو طلبہ اور اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت (اے بی جی پی)کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد شدت اختیار کر گیا۔ طلبہ نے کیمپس میں سکیورٹی کی ناکامی اور مبینہ بیرونی حملوں پر انتظامیہ سے جواب طلب کیا۔ 4 اکتوبر کو بھی کشیدگی کی اطلاع سامنے آئی۔ مغربی بنگال حکومت نے ستمبر کے واقعے کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) قائم کی تھی۔ تاہم، واقعے کی ذمہ داری اور مختلف فریقوں کے الزامات کو حتمی طور پر طے شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔

تکنیکی و قانونی پہلو: شوکاز نوٹس اور ادارہ جاتی نگرانی

شوکاز نوٹس کسی فرد کو ممکنہ تادیبی کارروائی سے پہلے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینے کا انتظامی طریقہ ہے؛ بذاتِ خود یہ جرم ثابت ہونے کا ثبوت نہیں۔ اسی طرح، کیمپس میں (سی سی ٹی وی) نگرانی سکیورٹی کے لیے مفید ہو سکتی ہے، لیکن اس کے استعمال میں شفافیت، رازداری اور منصفانہ کارروائی اہم ہیں۔ انتظامیہ نے بعض طلبہ پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور حکام سے بدسلوکی کے الزامات عائد کیے، جنہیں طلبہ نے مسترد کیا۔ 16 اکتوبر کو ادارے نے تعلیمی سرگرمیاں 13 نومبر تک معطل کرنے اور طلبہ کو 24 گھنٹوں میں کیمپس خالی کرنے کا حکم دیا۔ 23 اکتوبر تک احتجاج جاری تھا اور والدین سے طلبہ کو گھر لے جانے کی اپیل بھی کی گئی۔فلمی اداروں میں تخلیقی تربیت صرف تکنیکی مہارت تک محدود نہیں؛ اس میں تنقیدی سوچ، سماجی سوالات اور مختلف نقطۂ نظر کی گنجائش بھی شامل ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ادارہ طلبہ کی حفاظت یقینی بناتے ہوئے اختلافِ رائے اور شفاف تادیبی کارروائی کے اصولوں کا احترام کیسے کرتا ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356