جنگ زدہ تہران میں کافی شاپس آخری خوشی کیوں بن گئیں؟ متوسط طبقے کی خاموش مزاحمت

تہران کے کافی شاپس جنگ، مہنگائی اور سماجی پابندیوں سے پناہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی کاروبار بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مہنگائی، جنگ اور سماجی پابندیوں کے درمیان ایرانی متوسط طبقے کی خاموش مزاحمت؛ کیفے بن گئے آزادی اور ذہنی سکون کے نئے مراکز

تہران (ویب ڈیسک) رپورٹ— برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی 23 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، جنگ، معاشی بحران اور سماجی پابندیوں سے تھکے ہوئے تہران کے شہریوں کے لیے کافی شاپس روزمرہ زندگی کی محدود خوشیوں میں سے ایک اہم سہارا بن گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی جنگی کارروائیوں، بڑھتی مہنگائی اور غیر یقینی مستقبل کے باوجود کیفے نوجوانوں اور متوسط طبقے کے لیے ملاقات، گفتگو اور ذہنی دباؤ سے عارضی نجات کی جگہ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایران میں سالانہ مہنگائی 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے عام شہریوں کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

کافی کا کپ، مگر اس کے پیچھے معاشی بحران

کیفے مالکان کے مطابق، گاہکوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن حقیقی منافع اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔ بڑھتی قیمتوں کے باعث بعض صارفین مہنگی کافی کے بجائے سستی چائے خریدتے، پیسٹری بانٹتے یا کم خرچ میں زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ درآمدی کافی بینز کی فراہمی بھی جنگ، پابندیوں اور ترسیلی رکاوٹوں سے متاثر ہوئی ہے۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ صارفین کی تعداد میں اضافہ لازماً کاروباری منافع میں اضافے کے برابر نہیں ہوتا۔

تکنیکی پہلو: کیفے بطور “تیسری جگہ”

شہری سماجیات میں گھر اور کام کی جگہ کے علاوہ ایسی جگہ کو تیسری جگہ کہا جاتا ہے جہاں لوگ سماجی رابطے، گفتگو اور اجتماعی شناخت پیدا کرتے ہیں۔ تہران کے جدید کیفے اسی کردار کے حامل دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں خواتین اور مرد ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں، ثقافتی سرگرمیوں پر گفتگو کرتے ہیں اور بعض مقامات پر لباس، موسیقی اور دیگر سماجی پابندیوں کی حدود کو چیلنج کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بعض کیفے پر الکحل کی پابندی کی خلاف ورزی اور حکام کی محدود کارروائیوں کا ذکر بھی ہے؛ تاہم یہ سرگرمیاں عمومی یا قانونی طور پر منظور شدہ عمل نہیں بلکہ مخصوص مقامات سے متعلق رپورٹنگ ہے۔

خاموش مزاحمت یا عارضی پناہ؟

کیفے معاشی مشکلات ختم نہیں کر سکتے، لیکن وہ شہریوں کو معمول کی زندگی کا احساس، سماجی روابط اور نفسیاتی سہارا فراہم کرتے ہیں۔ دوسری جانب، حکومتی کارروائیوں اور کیفے بند ہونے سے روزگار، چھوٹے کاروبار اور متعلقہ سپلائی چین متاثر ہوتے ہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356