حماد اظہر کی گرفتاری: تین سال بعد پی ٹی آئی کے اہم رہنما قانون کی گرفت میں، 9 مئی کیسز پھر مرکزِ نگاہ
( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی ملتان سے گرفتاری نے 9 مئی 2023 کے مقدمات اور پی ٹی آئی کے خلاف جاری قانونی کارروائی کو ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حماد اظہر کو ملتان میں حراست میں لینے کے بعد لاہور پولیس کے حوالے کردیا گیا، جہاں ان کے خلاف درج مقدمات میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حماد اظہر کی گرفتاری اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ 9 مئی کے واقعات کے بعد طویل عرصے تک گرفتاری سے بچتے رہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق وہ 9 مئی کے مقدمات میں اشتہاری قرار دیے گئے تھے جبکہ جنوری 2026 میں انسداد دہشت گردی عدالت نے بھی انہیں دیگر افراد کے ہمراہ اشتہاری قرار دیا تھا۔
عدالت کی جانب سے مستقل گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حماد اظہر کو لاہور کے جی او آر گیٹ حملہ کیس سمیت 9 مئی سے متعلق متعدد مقدمات میں مطلوب قرار دیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ 50 سے زائد مقدمات میں نامزد ہیں، تاہم ان تمام مقدمات میں ان کی قانونی حیثیت اور الزامات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں کریں گی۔ یہ گرفتاری اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ حماد اظہر پی ٹی آئی کے نسبتاً نمایاں سیاسی چہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اور پارٹی میں پنجاب کی قیادت بھی کرچکے ہیں۔ ان کی گرفتاری 9 مئی کے مقدمات میں مطلوب پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کے تسلسل کی علامت سمجھی جارہی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے گرفتاری کو سیاسی انتقام اور ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی زیرِ التوا مقدمات اور عدالتی احکامات کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔ حماد اظہر کی گرفتاری اب اس لیے بھی اہم ہوگی کہ لاہور منتقل کیے جانے کے بعد ان کے خلاف مقدمات میں تفتیش اور عدالتی کارروائی کس رفتار سے آگے بڑھتی ہے۔ اس پیش رفت سے 9 مئی کے واقعات سے متعلق پی ٹی آئی قیادت کے قانونی معاملات پر سیاسی بحث بھی مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔




