پیوٹن، ٹرمپ کے ایلچی مذاکرات کے باوجود یوکرین جنگ پر بریک تھرو نہ ہوسکا
( مانیٹرنگ ڈیسک) روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سفارتی کوششوں کو ایک اور مشکل مرحلے کا سامنا ہے، کیونکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ماسکو میں ہونے والی تین گھنٹے سے زائد کی ملاقات کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے مذاکرات کو ’’انتہائی مفید‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندوں نے ممکنہ امن تصفیے کے لیے مختلف تجاویز اور راستے پیش کیے، تاہم انہوں نے کسی بریک تھرو یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔
مذاکرات میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ روس اور امریکہ کے درمیان ممکنہ اقتصادی تعاون اور مستقبل کے مشترکہ منصوبوں پر بھی بات ہوئی۔ یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور وسیع تر امن معاہدہ کرانے کی تازہ کوشش کا حصہ ہیں۔ وٹکوف اور کشنر نے اس سے قبل بھی ماسکو اور دیگر مقامات پر روسی اور یوکرینی حکام سے رابطے کیے ہیں، تاہم اب تک بنیادی اختلافات ختم نہیں ہوسکے۔ مذاکرات میں سب سے پیچیدہ مسئلہ علاقائی تنازع بدستور موجود ہے۔ روس یوکرین سے اپنے دعوے کردہ چار علاقوں سے متعلق سخت مطالبات رکھتا ہے، جبکہ کیف اپنی سرزمین سے دستبرداری کو مسترد کرتا ہے۔ یوکرین کے لیے مستقبل کی مغربی سیکیورٹی ضمانتیں بھی امن معاہدے کا ایک اہم مسئلہ ہیں۔ ماسکو میں ملاقات کے بعد امریکی ایلچی کیف پہنچ گئے جہاں انہوں نے اتوار کو یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں فریق آئندہ مذاکرات کے لیے ممکنہ اقدامات اور جنگ کے خاتمے کے راستوں پر مزید بات چیت کریں گے۔ زیلنسکی نے بھی واشنگٹن کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے تعمیری رویہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم انہوں نے یوکرین کے لیے قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضمانتوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مذاکرات کے دوران ماسکو اور کیف نے دارالحکومتوں پر حملوں میں عارضی وقفے کی کوشش کی، مگر محاذ پر لڑائی مکمل طور پر نہیں رکی۔ تازہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سفارتی رابطے جاری رہنے کے باوجود جنگ کے بنیادی سیاسی اور علاقائی اختلافات بدستور حل طلب ہیں۔تجزیہ کاروں کے لیے موجودہ مذاکرات کی اہمیت اس بات میں ہے کہ واشنگٹن نے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ براہِ راست رابطے دوبارہ فعال کیے ہیں، لیکن پیوٹن کے ساتھ تازہ ملاقات سے کسی فوری امن معاہدے کا راستہ ابھی واضح نہیں ہوا۔ یوں سفارتی عمل جاری ہے، مگر بریک تھرو اب بھی دور دکھائی دیتا ہے۔




