روس پر یورپی شکنجہ ڈھیلا؟ پابندیوں میں توسیع پر EU میں اختلاف
(مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے خلاف یورپی یونین کی انفرادی پابندیوں کے مستقبل پر رکن ممالک کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگیا ہے اور سفارتی سطح پر کئی کوششوں کے باوجود پابندیوں میں توسیع پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ موجودہ پابندیاں 15 ستمبر 2026 کو ختم ہونی ہیں، جبکہ فہرست میں تقریباً 2,600 روسی افراد اور ادارے شامل ہیں۔
یہ پابندیاں یوکرین کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے الزام میں عائد کی گئی تھیں، جن کے تحت متعلقہ افراد پر سفری پابندی، اثاثوں کی منجمدی اور یورپی ذرائع سے مالی وسائل تک رسائی کی ممانعت شامل ہے۔
تنازع کی بڑی وجہ سلوواکیہ کا مؤقف بتایا جارہا ہے۔ براتسلاوا ایک سال کے بجائے روایتی چھ ماہ کی توسیع اور بعض روسی شخصیات کو پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ حالیہ مذاکرات میں فرانس نے بھی روسی ارب پتی الیشر عثمانوف کو فہرست سے نکالنے کی حمایت کی ہے۔
یورپی یونین کے لیے مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پابندیوں کے تسلسل کے لیے تمام رکن ممالک کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اگر بروقت اتفاق نہ ہوا تو پابندیوں کا موجودہ قانونی فریم ورک متاثر ہوسکتا ہے، جس سے روس کے خلاف یورپی اتحاد اور دباؤ کے بارے میں سیاسی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یورپی یونین پہلے ہی روس کے خلاف 21ویں پابندی پیکیج سمیت توانائی، مالیاتی شعبے، تجارت اور فوجی صنعت پر دباؤ بڑھا چکا ہے۔




