ایران کا امریکی اڈے پر درست نشانہ کیسے؟؟؟ چینی سیٹلائٹ پر سوالات اُٹھ گئے

ایران کے 17 جولائی کے بیلسٹک میزائل حملے نے نہ صرف اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کی سیکیورٹی پر سوال اٹھایا بلکہ ایران کی طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور ممکنہ بیرونی انٹیلی جنس معاونت کا نیا معاملہ بھی سامنے آگیا ہے

ایران کا امریکی اڈے پر درست نشانہ کیسے

( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے 17 جولائی کے بیلسٹک میزائل حملے نے نہ صرف اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کی سیکیورٹی پر سوال اٹھایا بلکہ ایران کی طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور ممکنہ بیرونی انٹیلی جنس معاونت کا نیا معاملہ بھی سامنے آگیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے اردن کے موافق السالتی ایئر بیس کی ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر چینی اداروں سے حملے سے پہلے اور بعد میں حاصل کیں۔ حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

امریکی حکام کے مطابق تصاویر نے ایرانی منصوبہ سازوں کو امریکی اہلکاروں، تنصیبات اور ممکنہ اہداف کی صورتحال سمجھنے میں مدد دی ہوسکتی ہے۔ حملے کے بعد حاصل کی گئی تصاویر خاص طور پر یہ جانچنے میں مدد دے سکتی تھیں کہ میزائل کہاں گرے اور آئندہ حملے کے لیے کیا تبدیلی درکار ہے۔ تاہم امریکی ذرائع نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر ایران کے استعمال کردہ کئی انٹیلی جنس ذرائع میں سے صرف ایک ذریعہ ہوسکتی ہیں؛ ایران اپنی سیٹلائٹ صلاحیت، انسانی ذرائع اور روسی معلومات سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔

یہ معاملہ اس لیے زیادہ اہم ہے کہ امریکی حکام کے مطابق حالیہ عرصے میں ایران کی امریکی اہداف کے خلاف اسٹرائیک ایکوریسی بہتر ہوئی ہے۔ واشنگٹن نے مئی میں تین چینی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ایران کو ایسی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کر رہی تھیں جنہیں امریکی افواج کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم چین نے براہِ راست ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ چینی حکام نے امریکی دعووں پر ثبوت مانگے اور کہا کہ چین اور ایران کا تعاون بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔ چینی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے بعض حلقوں پر چین کو تنازع سے جوڑنے اور بدنام کرنے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکی حکام نے متعلقہ چینی اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے اور بیجنگ کی جانب سے حملے کی براہِ راست منصوبہ بندی یا اجازت کا الزام بھی نہیں لگایا۔ اس تنازع کا اصل خطرہ سیٹلائٹ انٹیلی جنس کی جنگی اہمیت میں پوشیدہ ہے۔ اگر تجارتی یا نیم نجی خلائی کمپنیوں کی اعلیٰ معیار کی تصاویر جنگی اہداف کے انتخاب میں استعمال ہونے لگیں تو مستقبل کی جنگ میں خلا، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت بھی میزائل اور ڈرون کے ساتھ فیصلہ کن ہتھیار بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ آنے والے ٹرمپ-شی جن پنگ رابطوں میں بھی حساس موضوع بن سکتا ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236