این ایس اے کی تاریخی تنظیمِ نو، اے آئی، چین اور سائبر جنگ پر امریکی فوکس
(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) اپنی کم از کم ایک دہائی میں سب سے بڑی تنظیمی تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق این ایس اے ڈائریکٹر جنرل جوشوا رڈ نے ادارے کے مشن کو بدلتی ہوئی عالمی سلامتی کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے پانچ نئے مشن سینٹرز بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ پہلا مرکز مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے ہوگا۔ اس کا مقصد انٹیلی جنس جمع کرنے، ڈیٹا کے تجزیے، خطرات کی پیش گوئی اور سائبر آپریشنز میں (اے آئی) کی صلاحیتوں کو تیزی سے شامل کرنا ہے۔ رڈ پہلے ہی این ایس اے میں (اے آئی) کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ ادارہ جدید کمرشل (اے آئی) ماڈلز کے ساتھ بھی کام بڑھا رہا ہے۔ دوسرا مرکز چین پر توجہ دے گا۔ امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی، فوجی طاقت، سائبر اسپیس اور عالمی اثرورسوخ کی مسابقت بڑھنے کے باعث واشنگٹن کے لیے چینی سرگرمیوں سے متعلق سگنلز انٹیلی جنس اور سٹریٹجک معلومات مزید اہم ہوگئی ہیں۔
اس مرکز کا مقصد چین سے متعلق مختلف انٹیلی جنس صلاحیتوں کو زیادہ مربوط کرنا ہوگا۔ تیسرا مرکز سائبر سیکیورٹی کے لیے ہوگا۔ این ایس اے نہ صرف غیر ملکی سائبر سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے بلکہ امریکی حساس مواصلاتی اور انکرپشن نظام کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کے دور میں یہ مرکز دفاع، خطرے کی نشاندہی اور سائبر رسپانس کو زیادہ مربوط بنا سکتا ہے۔ چوتھا مرکز جنگی معاونت پر توجہ دے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ این ایس اے کی سگنلز انٹیلی جنس صلاحیتیں محض معلومات جمع کرنے تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ فوجی کمانڈرز کو حقیقی وقت میں جنگی فیصلوں، اہداف اور آپریشنل منصوبہ بندی کے لیے زیادہ براہِ راست معاونت فراہم کرنے پر زور ہوگا۔ پانچواں مرکز عالمی انٹیلی جنس کے لیے ہوگا، جو دنیا بھر سے حاصل ہونے والی حساس انٹیلی جنس کو ایک وسیع عالمی تناظر میں مربوط کرے گا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق این ایس اے کی انتہائی خفیہ ہیکنگ صلاحیتوں سے وابستہ مخصوص رسائی کے آپریشنز بھی اسی نئے ڈھانچے کے تحت آسکتی ہے۔ پانچوں مراکز کے سربراہوں کو مؤثر طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کے اختیارات دینے کی تجویز اس تبدیلی کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔ بعض عہدوں پر ادارے سے باہر کے ماہرین بھی لائے جاسکتے ہیں۔ منصوبے کے مطابق نئی ساخت اکتوبر میں نافذ ہونا شروع ہوسکتی ہے جبکہ مکمل آپریشنل صلاحیت کا ہدف جنوری 2027 رکھا گیا ہے۔ یہ تنظیمِ نو بنیادی طور پر اس حقیقت کی عکاس ہے کہ جدید جنگ اب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ (اے آئی)، ڈیٹا، سائبر اسپیس، الیکٹرانک سگنلز اور عالمی ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں بھی لڑی جارہی ہے۔ این ایس اے کا نیا ڈھانچہ اسی بدلتی ہوئی جنگی حقیقت کے مطابق امریکی انٹیلی جنس طاقت کو زیادہ تیز، مربوط اور عملی بنانے کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔




