روس سے طویل جنگ کا خوف، یورپ کی دفاعی کمزوری بے نقاب؛ نیٹو منصوبہ ساز بھی پریشان
( مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی دفاعی حکام اور نیٹو سے وابستہ دفاعی منصوبہ سازوں نے خبردار کیا ہے کہ یورپ اس وقت روس کے ساتھ طویل اور فیصلہ کن جنگِ استنزاف کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ تازہ سیکیورٹی مباحثوں میں یہ خدشات سامنے آئے ہیں کہ اگر روس کے ساتھ براہِ راست جنگ چھڑتی ہے تو یورپی ممالک کے لیے کئی برس تک جاری رہنے والے تنازع کو برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف فوجی سازوسامان یا دفاعی بجٹ تک محدود نہیں بلکہ عوامی جنگی آمادگی، فوجی صنعتی صلاحیت، اسلحے کے ذخائر اور سیاسی اتحاد بھی بڑے چیلنج ہیں۔ یورپی ممالک نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دفاعی اخراجات میں اضافہ ضرور کیا ہے، تاہم مختلف ممالک کی جانب سے الگ الگ دفاعی منصوبہ بندی اور خریداری کے باعث مشترکہ صلاحیت پیدا کرنے میں اب بھی مشکلات موجود ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران یورپی دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا، مگر یورپی ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ منصوبوں کی رفتار اب بھی مطلوبہ سطح سے کم ہے۔ دفاعی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ روس روایتی فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ سائبر حملوں، ڈس انفارمیشن، تخریب کاری اور سیاسی مداخلت جیسے ہائبرڈ طریقوں کے ذریعے یورپی معاشروں میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ حالیہ واقعات، جن میں جرمنی میں ڈرون حملے اور دیگر یورپی ممالک میں مبینہ روسی ہائبرڈ سرگرمیاں شامل ہیں، نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ امریکہ کی یورپی دفاع میں مستقبل کی شمولیت ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے روایتی یورپی دفاع میں اپنے کردار کو محدود کرنے کے امکان کے باعث برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور دیگر اہم یورپی طاقتوں پر اپنی دفاعی ذمہ داریاں بڑھانے کا دباؤ ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپ نے روسی خطرے کے جواب میں دفاعی تیاری تیز کردی ہے، لیکن طویل جنگ کے لیے صرف زیادہ اسلحہ خریدنا کافی نہیں ہوگا۔ مشترکہ دفاعی پیداوار، فوجی ذخائر، افرادی قوت، سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی حمایت میں مستقل اضافہ ضروری ہوگا۔ یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو روس کے ساتھ ممکنہ مستقبل کے تنازع کے لیے اپنی منصوبہ بندی مزید مضبوط کررہا ہے۔ تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ روس کے ساتھ جنگ ناگزیر نہیں، بلکہ موجودہ تیاریوں کا مقصد ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے یورپی دفاعی صلاحیت اور روک تھام کو مضبوط بنانا ہے۔




