صرف سعودی جہازوں پر باب المندب سے گزرنے پر پابندی ہے، حوثی

حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ باب المندب سے برداری عام طور پر محفوظ رہے گی، مگر سعودی جہازوں پر پابندی جاری رہے گی اور وہ اپنی ناکہ بندی/جوابی پالیسی برقرار رکھیں گے۔

صنعاء (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نواز حوثی گروپ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعے کو کہا کہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والی بحری آمدورفت دیگر شپنگ کمپنیوں کے لیے محفوظ رہے گی تاہم سعودی عرب کے جہازوں پر عائد پابندی برقرار رہے گی۔

ٹیلیگرام پر جاری کے گئے بیان کے مطابق حوثیوں نے واضح کیا ہے کہ باب المندب کے راستے سے بحری آمدورفت عام طور پر جاری رہ سکتی ہے مگر اُن کا ہدف صرف سعودی جہاز ہیں۔ فوجی ترجمان نے مزید کہا، ’’سعودی جہازوں کے سوا تمام شپنگ کمپنیوں کے لیے یہ بحری راستہ محفوظ ہے۔ مگر سعودی جہازوں پر پابندی برقرار رہے گی۔‘‘

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حزبِ اختلاف کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے باب المندب کے علاقے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے، وہ نہ صرف آبنائے میں واقع سٹریٹیجک اہمیت کے حامل جزیرہ پیریم پر قبضہ کر چکے ہیں بلکہ ذوباب میں بھی داخل ہو چکے ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

یحییٰ سریع نے مزید کہا کہ حوثی گروپ ’’ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی اور کشیدگی کے جواب میں کشیدگی کی پالیسی‘‘ پر عمل جاری رکھے گا اور یہ سلسلہ تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک اُن کے بقول ’’جارحیت‘‘ رُک نہیں جاتی اور یمنی عوام پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں۔

اسی دوران سعودی عرب نے مخا شہر میں حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد نے بین الاقوامی خبر رسان ادارے کو کہا کہ بین الاقوامی برادری کو تشویش لاحق نہیں ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب حملے جاری رکھتا ہے تو حوثیوں کے پاس بھی ’’اہم اہداف کی فہرست‘‘ موجود ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516