بَرِکس جائز تجارت پر رکاوٹیں دور کرائے، ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے برکس اجلاس میں مطالبہ کیا کہ گروپ ایسا ماحول بنائے جو کسی بھی ملک کو دیگر ممالک کی جائز تجارت روکنے سے روکے اور قومی کرنسیوں کے استعمال میں اضافہ کرے۔

نئی دہلی (مانیٹڑنگ ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے 18ویں بَرِکس سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بَرِکس کو ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جو کسی بھی ملک کو دوسروں کی جائز تجارت روکنے سے باز رکھے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران پر اقتصادی دباؤ ’’بہت زیادہ خطرناک‘‘ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

بھارتی میڈیا ہے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے جمعے کو 18ویں بَرِکس سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بَرِکس کو ایسے قواعد و ضوابط اور ماحول کی حمایت کرنی چاہیے جو کسی بھی ملک کو دوسرے ملکوں کی جائز بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹ ڈالنے سے روکے۔

پزیشکیان نے خبردار کیا کہ دنیا ’’بہت پیچیدہ‘‘ دور سے گزر رہی ہے اور ’’اقتصادیات‘‘ کے بطور ٹول بڑھتے استعمال نے کئی ممالک کی تجارت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایران نے حالیہ برسوں میں مکمل پابندیوں کا سامنا کیا ہے اور یہ دباؤ امریکہ۔اسرائیل کی جارحیت کے بعد ایک بہت زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

انہوں نے بَرِکس ممالک کے درمیان تجارت میں قومی کرنسیوں کے وسیع تر استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران گروپ کی توانائی اور نقل و حمل کی رسد میں ایک ’’سٹریٹجک پارٹنر‘‘ کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ’’زیادہ کھلی اور منصفانہ معیشت‘‘ قائم کی جا سکے۔

متن کی دستاویز کے مطابق بَرِکس ایک عالمی معاشی بلاک ہے جس کی بنیاد برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ نے 2006ء میں رکھی تھی بعد ازاں ا،س میں مصر، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا اور ایران شامل ہوئے جبکہ انڈونیشیا کی شمولیت کا اعلان ابتدائی 2025ء میں کیا جا چکا ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پزیشکیان سے ملاقات کی اور اِس موقع پر بحری راستوں، تجارت اور سمندری عملے کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ بھارتی محکمہ خارجہ کے مطابق مودی نے کہا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے جبکہ مستقل اَمن اور استحکام کے لیے کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

اس ملاقات کا پس منظر خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان چھ ماہ پر محیط جنگی نوعیت کے تنازعات اور حالیہ بدامنی ہے، جس میں خلیج کے راستوں پر کشیدگی اور کشتیاں نشانہ بننے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ بھارتی حکام نے بتایا کہ اِن حملوں میں کم از کم 10 بھارتی شہری ہلاک ہو چکے ہیں اِس لیے نئی دہلی اِس معاملے میں کشتیوں اور سمندری راستوں کی سلامتی کو اہم قرار دیتا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1509