آبنائے ہرمز میں ایران کا دوسرا امریکی زیرِ آب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ
ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نیوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی خودکار زیرِ آب ڈرون (یو اے وی) قبضے میں لے لیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ’’ریمس۔600 ‘‘ ڈرون آبنائے ہرمز میں نگرانی اور مبینہ جاسوسی سرگرمی انجام دے رہا تھا، جسے ایرانی بحری فورسز نے ایک ’’پیچیدہ اور مربوط‘‘ آپریشن کے دوران روک لیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ کارروائی میں انٹیلی جنس صلاحیتوں اور الیکٹرانک وارفیئر کا استعمال کیا گیا۔
آئی آر جی سی کے مطابق قبضے میں لیا گیا’’ریمس۔600 ‘‘ اب ایرانی ماہرین کے پاس ہے جو اس کے اندر محفوظ ڈیٹا اور معلومات نکالنے کا کام کر رہے ہیں۔ ایرانی فورسز نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ’’خطرناک سرگرمی‘‘ یا غیر مجاز آمدورفت کا جواب دیں گی۔
یہ اس ماہ آبنائے ہرمز میں دوسرا امریکی زیرِ آب ڈرون ہے جسے ایران نے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے قبل 8 ستمبر کو آئی آر جی سی نے ڈائیو۔ایل ڈی نامی ایک امریکی خودکار زیرِ آب گاڑی کو آبنائے کے داخلی حصے میں پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس وقت امریکی محکمہ دفاع نے کہا تھا کہ ڈرون میں خرابی پیدا ہوگئی تھی اور وہ حساس ڈیٹا یا خفیہ سونار/ریڈار آلات لے کر نہیں جا رہا تھا۔
تازہ ’’ریمس۔600 ‘‘ واقعے پر امریکی حکام کی جانب سے اس وقت تک آزادانہ تصدیق یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، اس لیے ایرانی دعوے کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔ تاہم مسلسل دو واقعات نے آبنائے ہرمز میں امریکی نگرانی، زیرِ آب جنگی ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وارفیئر کی اہمیت کو نمایاں کردیا ہے۔



