سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 2022 میں ملک واپسی کے بعد ریاستی ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی روپیہ بغیر زرمبادلہ کے استعمال یا مارکیٹ مداخلت کے جلدی 200 روپے فی ڈالر سے نیچے آجائے گا۔ چار سال بعد، 14 اگست 2026 کی شائع شدہ رپورٹ کے مطابق روپیہ اب بھی زیادہ تر 300 روپے فی امریکی ڈالر کے قریب برقرار ہے۔
اسحاق ڈار نے 2022 میں جب بطور وزیر خزانہ وطن واپس آئے تو ایک ریاستی ٹی وی انٹرویو میں زور دے کر کہا کہ “the government would neither intervene in the foreign exchange market nor use the country’s foreign exchange reserves to push the rupee higher because the market was correcting itself.” انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ روپے کی قدر میں بہتری مارکیٹ اعتماد میں اضافے کی بنیاد پر ہو رہی ہے، نہ کہ کسی انتظامی اقدام کی بدولت۔
انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ ڈالر کب 200 روپے سے نیچے آئے گا تو انہوں نے کہا کہ یہ “a matter of days, not weeks.” ڈار نے اس وقت کہا کہ ڈالر کی بلند قیمت قیاس آرائی، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور نفسیاتی عوامل کی وجہ سے تھی اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ “market participants themselves had started reversing speculative positions.”
تاہم، خبر کے مطابق یہ پیشگوئی درست ثابت نہیں ہوئی۔ چار سال بعد، 2026 میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی روپیہ 200 کے بجائے 300 روپے فی امریکی ڈالر کے زیادہ قریب ہے، اور اس وقت تک روپے کی مضبوطی وہ توقعات پوری نہ کرسکی جو 2022 کے انٹرویوز میں کی گئی تھیں۔
اس 2022 کے انٹرویو کی ویڈیو اور کلپس حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر دوبارہ گردش کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے ڈار کی اس سابقہ پیشگوئی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ پروپاکِستانی کی شائع شدہ خبر میں اس انٹرویو کے دوبارہ منظر عام پر آنے کو اس موضوع کی موجودہ معاشی حقیقت کے تناظر میں پیشگوئی کا دوبارہ جائزہ کہا گیا ہے۔
یہ رپورٹ 14 اگست 2026 کو پروپاکستانی میں شائع ہوئی ہے اور مصنف کا نام Ahsan Gardezi بطور حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ان تمام براہِ راست اقوال اور شواہد کو حوالہ کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے جو 2022 کے انٹرویو سے منسلک ہیں۔




