لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں دوسرے سال کے طالبِ علم احمد عدنان جمعرات کو اپنے کمرے میں مردہ ملے؛ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ موت کی وجہ قلبی فالج (cardiac arrest) ہے۔ انتظامیہ نے واقعے کی فوری اطلاع حکام کو دی اور بعد ازاں اہلِ خانہ کو مطلع کیا گیا۔
لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں دوسرے سال کا طالبِ علم احمد عدنان جمعرات کو اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ احمد عدنان قصبہ قصور کا رہائشی تھا اور یونیورسٹی کے نیشنل آؤٹ ریچ پروگرام (NOP) کے تحت داخلہ لے کر تعلیم حاصل کر رہا تھا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبِ علم کو ہاسٹل کے کمرے میں مردہ حالت میں دیکھا اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کیا۔ پولیس اور طبی عملہ واقعہ کی جگہ پہنچا اور ابتدائی معائنے کے دوران لاش پر تشدد یا کسی خارجی زخم کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔
طبّی معائنے کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے ابتدائی نتائج میں موت کی ممکنہ وجہ قلبی فالج (cardiac arrest) بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی تشخیص اسی سمت اشارہ کرتی ہے، تاہم ماخذ نے مزید تشخیصی تفصیلات یا حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ نہیں دیا۔
اہلِ خانہ کو بعد میں واقعے سے آگاہ کیا گیا اور ذرائع نے بتایا ہے کہ انہوں نے اس واقعے پر قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس کی ابتدائی اطلاع اور طبی تشخیص کے مطابق کوئی مشتبہ واردات یا تشدد کے آثار نہیں ملے۔
واقعے کے بارے میں یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے جاری کردہ مزید باضابطہ بیانات اس رپورٹ میں شامل نہیں تھے۔ اس واقعے کے بعد ہاسٹل میں طالبِ علموں اور عملے میں تشویش دیکھی گئی، لیکن ماخذ نے یہ تاثر نہیں دیا کہ کسی نے احتجاج یا مزید قانونی مطالبات کیے ہوں۔
اس خبر کی معلومات ProPakistani کی مطلوبہ رپورٹنگ پر مبنی ہیں۔ موجودہ مرحلے میں شائع شدہ معلومات انہی ابتدائی حقائق تک محدود ہیں جن کا حوالہ ماخذ نے دیا ہے۔




