سعودی مالی قوت اور ترکی کی دفاعی صنعت کے پاکستان کو ممکنہ فوائد

دو ہفتے قبل طے پانے والے 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کے بعد ماہرین بحث کر رہے ہیں کہ سعودی مالی مدد، ترکی کی دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی عسکری صلاحیتیں کس طرح ایک دوسرے کے فوائد کو بڑھا سکتی ہیں۔

دو ہفتے قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ کے بعد عالمی مبصرین میں بحث جاری ہے کہ اِس سے پاکستان کیو کیسے فائدہ ہوسکتا ہے؟ مڈل ایسٹ آئی نے تین سعودی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ریاض مصر کی شمولیت کا خواہاں نہیں تھا جبکہ ترک مبصرین کا اشارہ ہے کہ سعودی سرمایہ ترکی کے بڑے دفاعی منصوبوں بشمول ’’کان‘‘ لڑاکا طیاروں کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

مڈل ایسٹ آئی نے تین سعودی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب نہیں چاہتا تھا کہ مصر اس معاہدے میں شامل ہو حالانکہ ترکیہ اِس معاہدے میں قاہرہ کی شمولیت پر زور دے رہا تھا۔ اِن تین میں سے ایک ذریعہ سعودی فرمانروا کا ایک سابق سینیئر مشیر بتایا گیا ہے۔

ترک مبصرین کے مطابق مکہ معاہدہ ترکی کی دفاعی صنعت کے لیے مالی وسائل اور شراکت داری کے دروازے کھول سکتا ہے۔ ترک خارجہ پالیسی کی ماہر نباہت تانری وردی نے ‘فکر تُورو’ ویب سائٹ پر لکھا کہ ترکیہ اپنی دفاعی پیدوار کی صلاحیت بڑھانے، نئے اور جاری منصوبوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے اور بعض منصوبوں کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے شراکت داروں کی تلاش میں ہے، اِس لیے دفاعی صنعت میں تعاون، اِس سکیورٹی معاہدے کا سب سے تیزی سے آگے بڑھنے والا حصہ ثابت ہو سکتا ہے۔

کچھ ترک مبصرین نے خاص طور پر بتایا کہ سعودی عرب ’’کان‘‘ لڑاکا طیاروں سمیت ترکی کے بڑے دفاعی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے جس سے انقرہ کا مغربی سرمائے پر انحصار کم ہو سکتا ہے، یہ دلیل ترکیہ کے روایتی صحافتی زاویوں میں بھی دیکھی گئی ہے جیسا کہ روس نواز روزنامہ ’’آئدنلک‘‘ کے لیے دوغان اک دنیز نے استدلال کیا۔

استنبول پولیٹیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے فارن پالیسی پروگرام کوآرڈینیٹر ریکارڈو گاسکو نے بی بی سی اردو کو کہا کہ سعودی عرب کو اِس معاہدے سے فوری طور پر سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مکہ معاہدہ ترک ٹیکنالوجی اور پاکستان کی روایتی عسکری صلاحیتوں اور سٹریجک تجربے کو ایک جگہ یکجا کرے گا جس سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتیں اور دفاعی پوزیشن مزید مضبوط ہو گی۔

اٹلانٹک کونسل کے مڈل ایسٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر ایلیسن مائنر کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی سعودی عرب اور پاکستان کی موجودہ پارٹنرشپ میں شمولیت سے اِس اتحاد کے سفارتی اور دفاعی قد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ترکی نیٹو کا رُکن ہے جبکہ اُس کی فوج کا شمار نیٹو میں موجود بڑی قوتوں میں ہوتا ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ خطے میں فروری 2026ء سے جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے ردِعمل نے خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے لیے دفاعی شراکت داری کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ شریک ممالک کا مؤقف یہ ہے کہ معاہدہ کسی جارحانہ مہم کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔ بی بی سی اردو نے جیوپولیٹیکل ماہرین اور مبصرین سے سوال کیا کہ یہ معاہدہ طویل مدت میں تینوں میں سے کس کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا اور وہ قرار دیتے ہیں کہ ابتدائی طور پر ریاض کو اِس کا سب سے زیادہ فائدہ ہو گا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515