ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارتھ ایرڈے جمعرات کی صبح کمرشل پرواز کے ذریعے دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے اور اپنا بیگ خود اٹھائے۔ ایئرپورٹ پر انہیں پاکستان کی ایڈیشنل فارن سیکرٹری (یورپ) عائشہ علی نے بدھ استقبال کیا، اور دورے کے دوران انہوں نے کئی اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارتھ ایرڈے کی پاکستان آمد کی تصاویر اور ویڈیوز پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے آفیشل ‘ایکس’ اکاؤنٹ سے جاری کی گئیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کسی خصوصی فلائٹ کے ذریعے نہیں بلکہ کمرشل پرواز سے پہنچے اور اپنا سامان خود اٹھائے ہوئے ہیں۔
ایئرپورٹ پر ان کا استقبال پاکستان کی ایڈیشنل فارن سیکرٹری (یورپ) عائشہ علی نے کیا۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق بارتھ ایرڈے نے اپنے دو روزہ دورے کے دوران پاکستانی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف نے ناروے کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو سراہا، خاص طور پر تعلیم، ہنرمند افرادی قوت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔ وزیرِ اعظم نے نارویجن کمپنیوں کو پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
سوشل میڈیا پر بارتھ ایرڈے کی سادہ سی آمد کو پاکستانی صارفین نے پذیرائی سے دیکھا اور ان مناظروں پر بحث ہوئی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر رضا ہارون نے تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ’ایک مختصر مگر مؤثر منظرنامہ: ناروے کے وزیرِ خارجہ پاکستان ایک کمرشل پرواز کے ذریعے پہنچے ہیں اور اپنا سامان خود اٹھائے ہوئے ہیں۔ نہ استحقاق، نہ فضول خرچی، بلکہ صرف عوامی خدمت۔ یہ اُس ملک کی سیاسی ثقافت کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے جہاں عوامی عہدہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، حق نہیں۔‘
صحافی اجمل جامی نے سوال اٹھایا: ’اور ہمارے وزرا اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کس انداز میں سفر کرتی ہیں؟ انھیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ عوام غیر ملکی عہدیداروں کے اس طرزِ عمل کو کس قدر اپنے قریب محسوس کرتے ہیں۔۔۔‘ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے لکھا: ’جمہوری ریاستوں اور آمرانہ ممالک کے رہنماؤں کے درمیان فرق بہت نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناروے خوشی کے عالمی انڈیکس میں اتنا اُوپر ہے۔‘
بارٹھ ایرڈے کے دورے سے متعلق ایک جوائنٹ پریس کانفرنس کے کلپ میں انہوں نے کہا: ’مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ مجھے جموں و کشمیر سے لے کر افغانستان تک کے علاقائی اور عالمی مسائل پر گفتگو کا یہ موقع ملا۔۔۔‘ اس بیان پر بھارت میں بعض صارفین نے اعتراض بھی کیا۔
سماجی بحث میں کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ پاکستانی رہنماؤں کو بھی عوامی طرزِ عمل اپنانا چاہیے تاکہ وہ ترقی پذیر ملک کے عکاس نظر آئیں۔ وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ سرکاری بیانات کے مطابق ملاقاتوں میں دوطرفہ اور علاقائی مسائل زیرِ بحث رہے۔




