ایرانی ’’فیلڈ مارشل‘‘ محسن رضائی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری مقرر

محسن رضائی ایران کی قیادت کے مرکز میں دوبارہ ابھر آئے ہیں؛ انہیں مجتبیٰ خامنہ ای کا نمائندہ اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا، جبکہ وہ کھل کر امریکہ کے خلاف سخت اشارے دے رہے ہیں۔

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) سرکاری میڈیا پر ’’فیلڈ مارشل‘‘ قرار دیے جانے والے محسن رضائی کو پہلے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا نمائندہ مقرر کیا گیا اور اب اُنہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔ ایرنای میڈیا کے مطابق وہ کُھل کر امریکہ کے خلاف سخت بیانات دے رہے ہیں۔

ایران میں چالیس روزہ جنگ اور متعدد سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد محسن رضائی ایک بار پھر حکومتی فیصلہ سازی کا مرکز سنبھال چُکے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اُنہیں پہلے مجتبیٰ خامنہ ای کا نمائندہ نامزد کیا گیا اور بعد ازاں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا، جس سے اُن کے اختیارات اور اثرورسوخ میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے رضائی کو ’’فیلڈ مارشل‘‘ قرار دیے جانے سے اُن کی عسکری حیثیت اور عوامی تاثر میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ نئے منصب کے ذریعے اب وہ اُس اہم ترین ادارے کی قیادت کر رہے ہیں جو حکومت کی تینوں شاخوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے کیونکہ وہ نہ صرف کونسل میں رہبر کی ہدایات کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ ملکی سلامتی سے متعلق پالیسی میں بھی اِس کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔

محسن رضائی ماضی میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر رہے اور کئی برس تک اِس کی ایک زیلی نظام کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں تاہم نئے آنے والے کمانڈروں کی وجہ سے اُن کی براہِ راست سکیورٹی میں شرکت کم ہو گئی تھی، اب صورتحال چونکہ ایک بار پھر بدل چکی ہے اِس لیے اُنہیں دوبارہ نمایاں عوامی اور سرکاری توجہ حاصل ہو چکی ہے۔

رضائی کی عوامی سرگرمیوں میں ٹی وی پر باقاعدہ نمودار ہونا، غیر ملکی عہدیداروں سے ملاقاتیں اور بیرونی پالیسی پر اُن کی سخت تنقید شامل ہیں۔ اُنہوں نے مفاہمت یا جنگ بندی کے خاکے کو قبول نہیں کیا، وہ جنگ بندی کو ’’فوجی خاموشی‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں اُنہوں نے واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ جنگ اگر جاری رہی اور بحری ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو ایران جنگ کے دائرے کو بحرِ ہند، آبنائے باب المندب، بحیرۂ احمر اور بحیرۂ روم تک وسعت دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ محسن رضائی اب تک چار صدارتی انتخابات میں حصہ کلے چُکے ہیں لیکن اب تک کامیاب نہیں ہو سکے۔ ایرانی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب اُن کی نئی تعیناتی نے اُنہیں ایسے عہدے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ بڑے قومی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ان کی حالیہ تقرریاں اور بیانات ایرانی سیاسی و عسکری ڈھانچے میں ان کے کردار کی بحالی کی واضح علامت سمجھے جا رہے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516