نیپال میں ایک ہفتے بعد سرنگ سے دو ہائیڈرو پاور کارکن زندہ نکال لیے گئے

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے نو روز بعد امدادی کارکنوں نے ٹریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی ملبے میں دبی سرنگ سے دو کارکنوں کو زندہ نکال لیا

کھٹمنڈو (مانیٹرنگ ڈیسک) نیپال میں تباہ کن سیلاب کے نو روز بعد امدادی کارکنوں نے تریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی ملبے میں دبی سرنگ سے دو کارکنوں کو زندہ نکال لیا۔ حکام کے مطابق 30 سالہ مکینیکل فورمین سنجے شاہ اور 45 سالہ مکینیکل سپروائزر کبیر مہاراجن کو شدید مشکل ریسکیو آپریشن کے بعد بحفاظت باہر لایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے سرنگ میں 50 سے 60 میٹر تک ملبہ صاف کیا جس کے بعد دونوں کارکنوں تک رسائی ممکن ہوئی۔ انہیں

فوری طبی امداد اور ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دونوں کارکن 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد سرنگ میں پھنس گئے تھے۔

دونوں افراد کو 500 سے زائد انجینئروں پر مشتمل واٹس گروپ کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے باعث بچایا جانا ممکن ہوا۔ تفصیلات کے مطابق گروپ نے نیپال کے تریشولی وادی میں 26 اگست کی تباہ کن سیلاب کے بعد ہائیڈرو پاور پلانٹس کے ملبے سے نکلنے والی سرنگوں کی نشاندہی اور ڈرائنگز شیئر کر کے ریسکیو ٹیموں کی رہنمائی کی جس سے نو دن بعد اپر تروشولی 3اے کے ایک ٹنل سے دو افراد زندہ نکال لیے گئے۔

نیپال کے وادی تروشولی میں آنے والی بڑے پیمانے کی برفانی تودے کے پھٹنے اور اس کے نتیجے میں آنے والی سیلابی لہر نے کم از کم 1,200 افراد کی جانیں لیں اور چار ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے۔ تباہ کُن سیلاب نے وادی میں واقع کئی چھوٹے اور بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں کو تہس نہس کر دیا اور کم از کم چھ ہائیڈرو پراجیکٹس سے تقریباً 900 افراد لاپتہ بتائے گئے ہیں۔

حادثے کے فوراً بعد ایک گروپ جسے حادثہ سے پہلے ہی انجینئرز نے واٹس ایپ پر بنایا تھا، ریسکیو عملے اور حکومت کے اہلکاروں کو منصوبوں کے پاور ہاؤسز، رسائی ٹنلز اور نقشے فراہم کر رہے ہیں۔ گروپ میں شامل ماہرین نے منصوبوں کی ڈرائنگوں، سابقہ ملازمین کے رابطے اور ٹنلوں کے اندر ممکنہ جگہوں کی معلومات شیئر کیں، جس نے کھدائی اور ہیلی کاپٹر، بھاری مشینری کے ساتھ مل کر تلاش کو زیادہ ہدف بند انداز میں چلانے میں مدد دی۔

ایک سرکاری اہلکار نے گروپ میں لکھا کہ کیا کوئی اُنہیں سرنگوں تک رسائیل کی ڈراینگز بھیج سکتا ہے تو فوراً ہی ایک اور رُکن نے پاور ہاؤس اور رسائی ٹنلز کی ڈرائنگز بھیج دیں۔ اسی معلوماتی تبادلے کے بعد ریسکیو ٹیمیں ملبے میں پوشیدہ ممکنہ راستوں کی طرف متوجہ ہو سکیں۔

نیپال آرمی کے ترجمان راجہ رام بسنیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ سیلاب نے ٹنلوں کے اطراف کا منظر نامہ بدل دیا اور ڈھانچے کی ساخت متاثر ہوئی ہے۔ یہ سرنگوں کا معمول کا بند ہونا نہیں ہے، ریسکیو ٹیمیں بعض مقامات پر 2.2 ملین ٹن مٹی اور ملبے کو ہٹانے کے لیے مشینری استعمال کر رہی ہیں۔

ریسکیو اہلکاروں نے کہا کہ بقیہ سرنگوں میں ممکنہ زندہ افراد تک پہنچنے کے لیے آکسیجن پائپ فراہم کرنے اور کھدائی جاری رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی (این ای اے) کے ایک رکن نے بتایا کہ راسوگاڑھی منصوبے میں 46 افراد ممکنہ طور پر ایک چیمبر میں پھنسے ہو سکتے ہیں جہاں انہیں غذائی اور پانی تک رسائی ہو سکتی ہے جبکہ چلیمی میں کم از کم آٹھ افراد پھنسنے کا خدشہ ہے۔

گروپ پر لاپتہ افراد کے نام اور فون نمبرز بھی شیئر کیے گئے تاکہ ٹیلی کام کمپنیوں کے ذریعے ان کی آخری لوکیشن تلاش کی جا سکے۔ ورثاء اور اہل خانہ اب بھی اپنے پیاروں کی واپسی کی اُمید پر ٹِکے ہیں، جب کہ ریسکیو آپریشن مٹی ہٹانے اور سرنگوں تک رسائی کے دشوار مراحل سے گزر رہا ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 242