مصر اور امارات نے اسرائیل کو 7 اکتوبر حملے سے خبردار کیا تھا مگر نیتن یاہو نے تیاری کیوں نہیں کی

7 اکتوبر سے قبل اسرائیل کو مبینہ طور پر کم از کم دو اعلیٰ سطحی علاقائی ذرائع—مصر اور متحدہ عرب امارات—سے حماس کی غیر معمولی سرگرمی کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

7 اکتوبر حملے سے پہلے نیتن یاہو کو وارننگ؟ نئی NYT رپورٹ نے بڑا سوال اٹھا دیا

اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے پہلے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ممکنہ بڑے حملے کی وارننگ ملنے کے دعوے نے ایک بار پھر اسرائیل میں سیاسی اور سیکیورٹی بحث کو تیز کردیا ہے۔ تازہ New York Times رپورٹ کے مطابق دو ذرائع نے اس بات کی تائید کی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے ستمبر 2023 کے اواخر میں نیتن یاہو سے رابطہ کرکے حماس کی جانب سے بڑے حملے کی تیاری کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ تاہم نیتن یاہو نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ تقریباً 45 منٹ جاری رہا اور اماراتی صدر نے مبینہ طور پر حماس کے اس وقت کے سربراہ یحییٰ سنوار کی جانب سے کسی بڑے اقدام کی تیاری کا ذکر کیا۔ اس کے باوجود یہ سوال اب زیرِ بحث ہے کہ اگر ایسی اطلاع واقعی وزیراعظم تک پہنچی تھی تو اسے سیکیورٹی قیادت تک کیوں نہیں پہنچایا گیا؟

تازہ NYT رپورٹ میں ایک اور اہم دعویٰ سامنے آیا ہے۔ حملے سے چھ روز قبل ہونے والے ایک سیکیورٹی اجلاس کی کارروائی کے مطابق نیتن یاہو نے غزہ میں بڑے فوجی حملے کے بجائے نسبتاً پرسکون صورتحال برقرار رکھنے پر زور دیا، کیونکہ ان کے مطابق غزہ میں وسیع فوجی کارروائی سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو نقصان پہنچا سکتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس میں موجود بعض سیکیورٹی حکام نے حماس کے خلاف کارروائی کی حمایت کی تھی۔

مصری انٹیلی جنس چیف کی وارننگ بھی سامنے آگئی

مصر کی جانب سے بھی اسرائیل کو ممکنہ بڑے حملے کی وارننگ دی گئی تھی۔ تازہ رپورٹ کے مطابق مصر کے اس وقت کے انٹیلی جنس چیف عباس کامل نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے تقریباً 10 روز قبل اسرائیلی حکام سے رابطہ کیا اور غزہ میں حماس کی جانب سے کسی “غیر معمولی” یا بڑے آپریشن کی تیاری سے آگاہ کیا۔ The Atlantic کی نئی تحقیق کے مطابق کامل خود تل ابیب پہنچے اور اسرائیلی سکیورٹی حکام تک یہ پیغام پہنچایا۔

اس سے قبل بھی مصری حکام کی جانب سے دی گئی وارننگز کا حوالہ سامنے آچکا تھا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق مصر نے حماس کے ارادوں کے بارے میں عمومی انتباہ دیا تھا کہ تنظیم “کچھ بڑا” کرنے کی تیاری کر رہی ہے، تاہم اس میں حملے کی تاریخ یا مخصوص ہدف کی تفصیلات موجود نہیں تھیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہ معلومات اسرائیل کی شن بیت انٹیلی جنس سروس تک بھی پہنچائی گئی تھیں۔

یوں 7 اکتوبر سے قبل اسرائیل کو مبینہ طور پر کم از کم دو اعلیٰ سطحی علاقائی ذرائع—مصر اور متحدہ عرب امارات—سے حماس کی غیر معمولی سرگرمی کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ تاہم یہ بات ابھی زیرِ تحقیق ہے کہ ان warnings کو اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے کس انداز میں سمجھا، کس سطح پر پہنچایا اور ان پر عملی کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ مصری و اماراتی اطلاعات کی تفصیلات بھی مکمل طور پر یکساں نہیں تھیں

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356