یورپ نے ایران جنگ میں خفیہ طور پر حصہ لیا؟ باقری کا رُٹے کے بیان پر سخت ردعمل
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے کے حالیہ بیان کو ایران کے خلاف جنگ میں یورپی ممالک کے کردار کا ’’اعتراف‘‘ قرار دیا ہے۔ بقائی نے 25 ستمبر 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر کہا کہ رُٹے کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی ممالک نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں جان بوجھ کر اور فعال طور پر حصہ لیا، حالانکہ جنگ کے دوران یورپی حکومتیں بارہا اپنی براہِ راست حمایت یا شمولیت سے انکار کرتی رہی تھیں۔
رُٹے کے جس بیان کا بقائی نے حوالہ دیا، اس کے مطابق جنگ کے دوران یورپی اڈوں سے تقریباً 5,000 پروازیں/Sorties کی گئیں۔ بقائی نے اس دعوے کو یورپ کی جانب سے فوجی تعاون کی اہم شہادت کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ جو ممالک اپنی سرزمین، فضائی حدود، فوجی اڈے یا دیگر انفراسٹرکچر امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کے لیے فراہم کرتے ہیں، انہیں اس کے نتائج کی ذمہ داری سے فرار نہیں ہونا چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے یورپی یونین، اس کے رکن ممالک اور نیٹو ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ میں فراہم کیے گئے سیاسی، فوجی اور لاجسٹک تعاون کی وضاحت کریں۔ ان کے مطابق جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور دیگر معاشی مشکلات کو بھی یورپی حکومتوں کے کردار کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
تاہم بقائی کے الزامات کو ایرانی حکومت کا مؤقف سمجھنا ضروری ہے۔ دستیاب رپورٹنگ میں یورپی حکومتوں کی طرف سے ان تمام الزامات کی مکمل توثیق موجود نہیں۔ اسی لیے رُٹے کے بیان، یورپی اڈوں کے استعمال اور براہِ راست جنگی شمولیت کے درمیان قانونی اور عملی تعلق پر مزید تفصیلات اہم ہوں گی۔
ی




