پاکرا نے چینی ریٹنگ گروپ کے ساتھ ایم او یو کیا؛ پاکستانی اداروں کے لیے پانڈا بانڈ مارکیٹ تک رسائی کے امکانات کھل گئے

پاکرا نے چینی ریٹنگ گروپ لیانہے کے ساتھ ایم او یو کیا ہے تاکہ پاکستانی حاکمیتی اور کارپوریٹ جاری کنندگان کے لیے پانڈا بانڈ اور پائیدار مالیات کے مواقع تلاش کیے جائیں۔

پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی لمیٹڈ (پاکرا) نے چین کے بڑے ریٹنگ گروپ کی بین الاقوامی شاخ لیانہے ریٹنگز گلوبل لمیٹڈ کے ساتھ میثاقِ تفاهم (ایم او یو) کیا ہے تاکہ پائیدار مالیات کی ریٹنگ، گرین فنانسنگ اور ممکنہ پانڈا بانڈ اجراء کے مواقع تلاش کیے جائیں، کمپنی نے یہ اطلاع پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو 1 ستمبر کو دی۔

پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی لمیٹڈ (پاکرا) نے چین کی بڑی ریٹنگ کمپنی کی بین الاقوامی شاخ لیانہے ریٹنگز گلوبل لمیٹڈ کے ساتھ ایک میثاقِ تفاهم (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد پائیدار مالیاتی ریٹنگز، تحقیق و علم کی منتقلی اور پاکستانی حاکمیتی و کارپوریٹ جاری کنندگان کے لیے ممکنہ پانڈا بانڈ اجراء کی تیاریوں کو جانچنا ہے۔

معاہدے کے تحت دونوں ریٹنگ ایجنسیاں سبز اور پائیدار مالیاتی آلات، تحقیقاتی تعاون اور ریٹنگ سے متعلق خدمات میں باہمی تعاون کے امکانات کو تلاش کریں گی۔ پاکرا نے پی ایس ایکس کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم او یو کے تحت کوئی بھی مخصوص اقدام حتمی معاہدوں پر دستخط کے بعد ہی شروع ہوگا۔

پانڈا بانڈ مارکیٹ چین کے گھریلو بانڈ مارکیٹ میں غیر ملکی جاری کنندگان کو رقم اکٹھا کرنے کی اجازت دیتی ہے، اور اس شراکت سے پاکستانی اداروں کو چین کے اس داخلی بازار تک رسائی کے نئے راستے حاصل ہو سکتے ہیں۔ پاکرا نے کہا ہے کہ یہ تعاون اسے پائیدار مالیات اور سبز مالیاتی آلات میں مہارت اور خدمات بنانے میں مدد دے گا۔

لیانہے ریٹنگز گلوبل لمیٹڈ کو چین کے ایک بڑے ریٹنگ گروپ کی بین الاقوامی شاخ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کی بدولت تعاون میں سرحد پار مالیاتی سہولتیں اور ماہرین کا تبادلہ شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس طرح کا کراس بارڈر تعاون پاکستانی کمپنیوں اور حکومت کے لیے متبادل مالیاتی ذرائع تلاش کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

پاکرا نے واضح کیا ہے کہ ایم او یو صرف تعاون کی سمت متعین کرتا ہے اور کسی بھی مادی پیش رفت یا نتیجے کی اطلاع متعلقہ ضوابط کے مطابق دی جائے گی۔ اس وقت تک کہ حتمی معاہدے طے پائیں، کسی مخصوص پانڈا بانڈ پیشکش یا شیڈول کی توثیق نہیں کی گئی۔

ماخذ کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے لیے چین کی سرمایہ مارکیٹوں تک متبادل رسائی کے امکانات کی جانب ایک مرحلہ ہے، خصوصاً جب ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی تقاضوں اور پائیدار مالیات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519