نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے 1 ستمبر 2026 کو پاک آئی ڈی ایپ کا ورژن 5.7.4 جاری کیا جس میں کمپیوٹرائزڈ نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ (سی این آئی سی)، اوورسیز پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ (این آئی سی او پی) اور پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) کی ڈیجیٹل کاپیاں اب ایپ کے ذریعے دستیاب ہیں، ساتھ ہی ایف آئی اے شکایات کے لیے وقف سیکشن اور دستخط کے خودکار کٹّنگ فیچر شامل کیا گیا ہے۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اپنی موبائل ایپ “پاک آئی ڈی” کا ورژن 5.7.4 جاری کر دیا ہے جس میں شہریوں کے لیے کئی نئی سہولتیں شامل کی گئی ہیں۔ اپڈیٹ کے اہم نکات میں ڈیجیٹل شناختی کارڈز کی دستیابی اور متعلقہ پرنٹنگ و ڈیلیوری سروسز شامل ہیں۔
اس ورژن کے ذریعے صارفین اب اپنے کمپیوٹرائزڈ نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ (سی این آئی سی)، اوورسیز پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ (این آئی سی او پی) اور پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) کی ڈیجیٹل کاپیاں ایپ میں دیکھ سکیں گے، جبکہ طباعت اور گھر تک ترسیل کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ یہ قدم دستاویزات کی ڈیجیٹل رسائی اور سہولتِ حصول میں آسانی کا باعث بن سکتا ہے۔
نادرا نے ایپ میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے لیے ایک مخصوص سیکشن بھی شامل کیا ہے جسے مستقبل میں ایف آئی اے سے متعلق شکایات کی رجسٹریشن اور ان کی ٹریکنگ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس سے صارفین کو شکایات درج کروانے اور ان کی پیش رفت دیکھنے میں سہولت ملنے کی توقع ہے۔
خاندانی رکن شامل کرنے کے عمل کو بھی آسان بنایا گیا ہے، خاص طور پر اُن صورتوں میں جب فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ (ایف آر سی) میں خاندانی معلومات مکمل نہ ہوں۔ مزید برآں، درخواست کے دوران دستخط کی خودکار کٹّنگ (آٹو کَراپ) کا فیچر شامل کیا گیا ہے جو صارفین کو دستخط کو ایڈجسٹ کرنے میں مدد دے گا۔
نادرا نے صارفین کو کہا ہے کہ وہ آئندہ ورژنز کے لیے نئی خصوصیات کی تجاویز شیئر کریں۔ اپڈیٹ اور فیچرز کے نفاذ کے عملی اثرات اور دستیابی کے پیرامیٹرز کے بارے میں مزید تفصیلات نادرا کی باقاعدہ اشاعت یا ایپ کے نوٹس میں فراہم کی جائیں گی۔



