وفاقی وزیر برائے اطلاعات اور ٹیلی کمیونیکیشن شِزہ فاطمہ خواجہ نے ریاض میں منعقدہ لیپ 2026ء کانفرنس میں کہا کہ پاکستان نوجوان آبادی کے لیے قومی ڈیجیٹل سٹیک تیار کر رہا ہے، جسے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ، قومی ڈیجیٹل کمیشن (این ڈی سی) اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ وزیر نے 5۔جی سپیکٹرم نیلامی، خصوصی ٹیک زون اور آئی ٹی شعبے کے لیے محصولی مراعات کو ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کی کڑی قرار دیا۔
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) لیپ 2026ء میں ٹیک مباحثے میں پاکستان پویلین کا افتتاح کرتے ہوئے وفاقی وزیر شِزہ فاطمہ نے کہا کہ قومی ڈیجیٹل سٹیک کا ہدف کم لاگت، بہتر خدمات اور نوجوانوں کے لیے نئے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ اِس تبدیلی کی قانونی اور ادارہ جاتی بنیادیں پہلے ہی رکھی جا چکی ہیں۔
شِزہ فاطمہ نے خصوصی طور پر ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کا حوالہ دیا جس نے قومی ڈیجیٹل کمیشن (این ڈی سی) اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) جیسے ادارے قائم کیے ہیں جو ملک کا ڈیجیٹل ایجنڈا عملی شکل دیں گے۔ اِن اداروں کو شفاف اہداف اور کارکردگی پیمانے متعین کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ منصوبے حقیقی نتائج دیں۔
وزیر نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تیاری کر رہی ہے تاکہ قومی ڈیجیٹل سٹیک کے اوپر نئی سروسز اور مصنوعات بنائی جا سکیں۔ اِس میں آئندہ 5۔جی سپیکٹرم نیلامی، خصوصی ٹیک زونوں کا قیام اور آئی ٹی شعبے کےلیے محصولاتی مراعات شامل ہیں۔ اُنہوں نے نوجوان ورک فورس اور نجی سیکٹر کو نئے پروڈکٹس اور سروسز تیار کرنے میں مرکزی کردار دینے پر زور دیا۔
ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان پویلین میں 25 سٹارٹ اپس اور 50 پاکستانی ٹیک کمپنیاں موجود تھیں جو مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور دیگر ڈیجیٹل حل پیش کر رہی تھیں۔ حکومت کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بین الاقوامی تجارتی شراکتیں بنانا اور مقامی کمپنیوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دلوانا ہے۔
شِزہ فاطمہ خواجہ نے سعودی عرب کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدت اور مہارت کی ترقی میں تعاون کے فروغ کی منصوبہ بندی کا بھی ذکر کیا۔ وزارتی بیان کے مطابق ان اقدامات کا براہِ راست فائدہ نوجوان ڈویلپرز، آئی ٹی ماہرین اور ٹیک انڈسٹری کو ملنے والی سرمایہ کاری اور روزگار کی صورت میں ہوگا۔
حکومت نے اِس عمل میں مضبوط اداروں، واضح اہداف اور نجی شعبے کے شراکت کو ضروری قرار دیا ہے تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی مستحکم اور نتیجہ خیز ہو۔



