حکومت نے 1.49 کھرب روپے کے گیس گردشی قرض کی ادائیگی کا منصوبہ متعارف کرادیا

حکومت نے 19 اگست 2026 کو پیٹرولیم ڈویژن کی سمری کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے سامنے رکھتے ہوئے 3.6 کھرب روپے کے گیس گردشی قرض میں سے 1.49 کھرب روپے کی ادائیگی کا منصوبہ پیش کیا۔

19 اگست 2026 کو پیٹرولیم ڈویژن نے حکومت کی جانب سے 3.6 کھرب روپے کے گیس سیکٹر کے گردشی قرض میں سے 1.49 کھرب روپے کی ادائیگی کا منصوبہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے سامنے رکھا؛ کمیٹی کے چیئرمین وزیراعظم شہباز شریف تھے۔ منصوبے کا مقصد توانائی سیکٹر کے بڑھتے ہوئے واجبات کو حل کرنا بتایا گیا ہے اور ادائیگی کا طریقہ کار مختلف مالی ذرائع کے امتزاج پر مبنی ہے۔

پیش کیے گئے منصوبے کے مطابق گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرض 3.6 کھرب روپے ہے، جو دو حصوں پر مشتمل ہے: 1.8 کھرب روپے اصل واجبات اور 1.7 کھرب روپے تاخیر سے ادائیگی کے جرمانے۔

منصوبہ مالی وسائل کے مختلف ذرائع سے 1.49 کھرب روپے جمع کرانے پر انحصار کرتا ہے۔ سب سے بڑا حصہ 540 ارب روپے اضافی منافع کے ذریعے حاصل کیا جائے گا جو Oil and Gas Development Company (OGDCL)، Pakistan Petroleum Limited (PPL) اور Government Holdings Private Limited کی جانب سے دیا جائے گا۔

مزید 270 ارب روپے ایک پیداواری محصول کے ذریعے اکٹھا کیے جائیں گے جس کی تفصیل کے مطابق سالانہ تقریباً 18 ارب لیٹر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر فی لیٹر 5 روپے کی وصولی رکھی جا رہی ہے۔

ایک اہم جزو 590 ارب روپے کی بچت ہے جو مہنگی ایل این جی کی کم خریداری اور درآمدی ایل این جی کی جگہ مقامی گیس کے استعمال سے حاصل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 80 ارب روپے ایل این جی قیمت بازیابی (LNG price recovery) سے اور 15 ارب روپے ‘ٹیک آر پے’ دعوؤں کے ذریعے جمع کرنے کا تخمینہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں گردشی قرض کے بڑھنے کی وجوہات میں ٹیرف ڈیفرینشل، وصولی ہونے والی غیر موجود ادائیگیاں اور پالیسی سے متعلقہ اخراجات شامل ہیں۔ خاص طور پر ٹیرف ڈیفرینشل کے باعث 1.4 کھرب روپے قرض بڑھا ہے؛ پاور سیکٹر کے واجبات 123 ارب روپے، سیلز اور انکم ٹیکس کی وصولیاں 211 ارب روپے اور قانونی (litigation) اخراجات 58 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

منصوبہ میں مہنگی ایل این جی سپلائی کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق سستی قطر ایل این جی معاہداتی کارگو کی عدم دستیابی کے باعث ملک کو سَپاٹ کارگو کے ذریعے مہنگی ایل این جی حاصل کرنی پڑی، جن کی قیمتیں $19 فی ملین برٹش تھرمل یونٹس تک پہنچ گئیں جبکہ معمولی قطر کارگو کی قیمتیں تقریباً $12 تا $13 تھیں۔ یہ مہنگی درآمدی ایل این جی پاور پلانٹس کو فراہم کی گئی اور اس کے اخراجات بجلی صارفین سے وصول کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گردشی قرض نے تیل و گیس کی تحقیق اور پیداوار کرنے والی کمپنیوں بشمول OGDCL اور PPL پر بھی اثرات مرتب کیے، جبکہ صوئی گیس کمپنیوں کے پاس صارفین کو فراہم کردہ گیس کے بل ادھار جمع ہو گئے۔

کابینہ کمیٹی کو پیش کی جانے والی یہ سمری توانائی شعبے کے واجبات کم کرنے کے لیے حکومتی حکمت عملی اور ممکنہ آمدنی کے ذرائع کی تفصیلی دستاویز پر مبنی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519