پاکستان نے عالمی قرض مارکیٹ سے ریکارڈ 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے، جسے ملک کی بہتر ہوتی کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی سرمایہ کاروں کی پاکستانی قرض پیکیج میں بڑھتی دلچسپی کا اہم ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے سازگار عالمی ڈیبٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہائی ییلڈ بانڈز فروخت کیے۔ حالیہ عرصے میں S&P اور Moody’s کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔ S&P نے جولائی میں پاکستان کی ریٹنگ B- سے بڑھا کر B کردی تھی۔
یہ کامیابی پاکستان کے لیے بیرونی فنانسنگ اور زرمبادلہ کے دباؤ کو سنبھالنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، تاہم بلند شرحِ منافع کے باعث قرض کی لاگت بھی اہم چیلنج رہے گی۔




