پوتن نے روسی فوج کی نفری 24 لاکھ 41 ہزار تک بڑھا دی، یوکرین جنگ کے بعد چوتھا اضافہ
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روسی مسلح افواج کی مجاز مجموعی نفری بڑھا کر 2,441,630 کر دی ہے، جس میں 1,550,500 فعال فوجی اہلکار شامل ہیں۔ 28 ستمبر 2026 کے صدارتی حکم نامے کے تحت فعال فوجیوں کی تعداد میں مزید 15,500 کا اضافہ کیا گیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق روسی حکومت کو نئی نفری برقرار رکھنے کے لیے وزارتِ دفاع کو درکار اضافی بجٹ فراہم کرنا ہوگا۔
یہ اضافہ 2026 میں روسی فوج کی مجاز تعداد میں چوتھی مرتبہ اضافہ ہے۔ اس سے قبل مارچ، جون اور جولائی میں بھی فوجی نفری کے ہدف میں تبدیلی کی گئی تھی۔ جولائی میں مجموعی مجاز نفری 2,426,130 جبکہ فعال فوجیوں کی تعداد 1,535,000 مقرر کی گئی تھی۔
اس اقدام کو بنیادی طور پر روس-یوکرین جنگ کی طویل مدت، فوجی افرادی قوت کی ضرورت اور مستقبل کی جنگی تیاری کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد ماسکو نے اپنی فوج کو بڑے پیمانے پر وسعت دی، جبکہ بھرتی کے لیے کنٹریکٹ سروس اور مالی مراعات پر زیادہ انحصار کیا گیا ہے۔
حالیہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس 2027 کے لیے دفاعی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔ Reuters کے مطابق روس 2027 میں دفاع پر تقریباً 17.1 ٹریلین روبل خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جو ابتدائی بجٹ تخمینے سے 27 فیصد زیادہ ہے۔ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس مزید اہلکار بھرتی کر رہا ہے اور شمالی کوریا سے مزید فوجی تعاون بھی متوقع ہے۔ تاہم ان دعوؤں کے تمام حصوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
تاریخی طور پر روس نے جنگ یا بڑے سکیورٹی بحرانوں کے دوران فوجی ڈھانچے میں توسیع کی ہے۔ موجودہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ماسکو کم از کم طویل المدت فوجی تیاری اور افرادی قوت برقرار رکھنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ اسے لازماً نئی بڑی متحرک بھرتی یا کسی مخصوص آئندہ کارروائی کا ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔




