امریکی انتخابات سے پہلے ایران ڈیل؟ ٹرمپ کے لیے سفارتی موقع یا انتخابی کارڈ؟
ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات نے 3 نومبر 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک نئی سیاسی جہت اختیار کرلی ہے۔ بلومبرگ کے مطابق ایرانی حکام نجی طور پر اس بات کے بارے میں مایوس ہیں کہ انتخابات سے پہلے واشنگٹن کے ساتھ کوئی جامع معاہدہ طے پاسکے گا۔ تہران کو خدشہ ہے کہ 3 نومبر کے بعد تنازع دوبارہ شدت اختیار کرسکتا ہے، جبکہ ایرانی حکام ٹرمپ انتظامیہ کے کسی معاہدے پر قائم رہنے کے بارے میں بھی عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی تجارت کا اہم راستہ ہے، طویل تنازع کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔ ایران نے گزشتہ ہفتے ایک سات روزہ تجویز پیش کی جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات شروع کرنے کے بدلے امریکی پابندیوں میں نرمی، ایرانی تیل کی برآمد کی اجازت اور منجمد اثاثوں سے متعلق اقدامات شامل تھے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے 26 ستمبر کو اس تجویز کو مسترد کردیا، اگرچہ بعد میں انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے دوبارہ بات چیت کرسکتے ہیں۔
کیا ٹرمپ ایران کارڈ انتخابی سیاست میں استعمال کرسکتے ہیں؟
یہاں مفروضے اور ثابت شدہ حقائق کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ دستیاب معلومات اس بات کا ثبوت نہیں دیتیں کہ ٹرمپ نے ایران کو باقاعدہ انتخابی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ ایران جنگ پہلے ہی امریکی سیاسی بحث کا حصہ بن چکی ہے۔ CBS کے مطابق جنگ سے پیدا ہونے والی بلند ایندھن قیمتیں وسط مدتی انتخابات میں ایک اہم سیاسی مسئلہ بن گئی ہیں، جبکہ سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد بھی زیر بحث آئی۔
تاریخی طور پر امریکی صدور نے خارجہ پالیسی کے بڑے بحرانوں کو داخلی سیاست سے الگ رکھنا مشکل پایا ہے۔ ایران کا معاملہ خاص طور پر حساس ہے کیونکہ 1979 کے انقلاب، یرغمال بحران، جوہری معاہدے اور بعد کی پابندیوں نے اسے امریکی سیاسی مباحثے کا مستقل موضوع بنا رکھا ہے۔
موجودہ مذاکرات میں ایران فوری طور پر ہرمز کھولنے اور جنگ بندی پر زور دے رہا ہے، جبکہ واشنگٹن جوہری پروگرام سے متعلق مزید رعایتیں چاہتا ہے۔ ثالث قطر اور دیگر علاقائی ممالک دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کی توجہ امریکی انتخابات کے بجائے اپنے قومی مفادات پر ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کی ٹائمنگ انتخابات سے پہلے یا بعد میں ہوسکتی ہے۔
یوں اصل سوال یہ نہیں کہ “کیا ٹرمپ ایران کارڈ کھیلیں گے؟” بلکہ یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ مذاکرات انتخابی سیاست کے دباؤ، ہرمز کی صورتحال اور جوہری مسئلے کے باوجود کسی قابلِ عمل سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں۔




