حوثیوں کے خلاف اسرائیلی شمولیت کی کوشش، سعودی عرب کا انکار‘‘
تِل ابیب (ویب ڈیسک) سرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مبینہ طور پر امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب سے یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اسرائیل کی شمولیت کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ اسرائیلی اخبار (ہارٹز) کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ریاض کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کھلا فوجی تعاون سعودی عوام میں منفی ردعمل پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اس تعاون کو حوثیوں کے خلاف کارروائیوں کے علاوہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش سے بھی جوڑتا ہے۔ تاہم، سعودی عرب طویل عرصے سے واضح کرتا آیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ٹھوس پیش رفت ضروری ہے۔ اس لیے فوجی مفادات اور فلسطینی مسئلے کے درمیان توازن ریاض کے لیے اہم چیلنج ہے۔
دوسری جانب، امریکی فوج کی جانب سے سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس اور اہداف کی معلومات فراہم کرنے کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں، مگر یہ شواہد اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ (سینٹ کام) نے اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کی حمایت کی ہے۔
سعودی انکار ظاہر کرتا ہے کہ مشترکہ خطرے کے باوجود ریاض اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کے سیاسی نتائج سے محتاط ہے۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب کی اہمیت کے باعث حوثیوں کے خلاف مہم علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔




