امریکی گھروں کی فروخت میں کمی، پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے خطرہ
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سست روی کے باوجود گھروں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف ریئلٹرز کے مطابق، ستمبر 2026 میں گھروں کی فروخت ماہانہ بنیاد پر 1.5 فیصد بڑھی، لیکن سالانہ بنیاد پر 2.2 فیصد گر گئی۔ درمیانی فروختی قیمت 417,500 ڈالر رہی، جبکہ 30 سالہ مارگیج کی شرح 7.40 فیصد تک پہنچ گئی۔ بلند قیمتوں اور قرض کی مہنگی لاگت نے خریداروں کی قوتِ خرید متاثر کی ہے۔
پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے کیا مطلب ہے؟ فروخت میں کمی کو فوری طور پر قیمتیں گرنے یا منافع بڑھنے کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔ بڑھتی ہوئی انوینٹری اور طویل فروختی مدت خریداروں کو قیمت پر مذاکرات کا موقع دے سکتی ہے، لیکن بلند خریداری لاگت، پراپرٹی ٹیکس، انشورنس، مرمت اور انتظامی اخراجات کرایے سے حاصل ہونے والی آمدنی کم کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری سے پہلے شہر اور علاقے کی طلب، متوقع کرایہ، خالی رہنے کے امکانات اور تمام اخراجات کے بعد حاصل ہونے والی آمدنی کا حساب ضروری ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو ڈالر اور روپے کی شرحِ تبادلہ، امریکی ٹیکس قوانین، قانونی ملکیت اور پاکستان میں رقم منتقل کرنے کے ضوابط بھی سمجھنے چاہییں۔
یہ صورتِ حال نقد سرمایہ رکھنے والے خریداروں کے لیے مذاکرات کا موقع بن سکتی ہے، مگر ہر شہر اور پراپرٹی کی کارکردگی یکساں نہیں۔




