امریکا نے سعودی عرب کے لیے 24 ارب ڈالر کے F-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت منظور کرلی؛ چین سے ٹیکنالوجی لیک ہونے کا خدشہ
امریکی محکمۂ خارجہ نے سعودی عرب کو 48 جدید F-35 لڑاکا طیاروں اور 49 انجنوں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ اس دفاعی پیکج کی تخمینی مالیت 24.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ تاہم یہ ابھی مکمل فروخت یا ترسیل نہیں؛ معاہدے کو امریکی کانگریس کے جائزے اور دیگر مراحل سے گزرنا ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں اور ایران کے ساتھ وسیع تر کشیدگی کے باعث دفاعی دباؤ کا سامنا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ F-35 طیارے سعودی دفاعی صلاحیت اور امریکی و اتحادی افواج کے ساتھ باہمی تعاون کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیل کی خطے میں فوجی برتری برقرار رکھنے کا سوال بھی اس سودے کے جائزے میں اہم ہوگا۔
چین سے متعلق امریکی انٹیلی جنس خدشات
نیویارک ٹائمز کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے فوجی اور تکنیکی روابط کے باعث چین کو F-35 کی حساس ٹیکنالوجی تک رسائی ملنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ خدشات میں سعودی فوجی اڈوں تک چینی فوجی رسائی، ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس میں چینی ٹیکنالوجی اور طیارے کے جدید ریڈار و نگرانی کے نظام کی حفاظت شامل ہیں۔ یہ ممکنہ خطرات سے متعلق انٹیلی جنس جائزے ہیں، چین کی جانب سے ٹیکنالوجی چرانے کا ثابت شدہ واقعہ نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام سعودی عرب سے ایسے محفوظ مقامات اور سخت رسائی کنٹرول کی یقین دہانی چاہتے ہیں جہاں F-35 سے متعلق حساس نظام رکھے جائیں۔ بعض امریکی قانون ساز بھی اس سودے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
سعودی عرب، امریکا اور چین کے لیے مضمرات
سعودی عرب کے لیے F-35 جدید فضائی دفاع اور عسکری جدیدکاری کا حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن چین کے ساتھ دفاعی و ٹیکنالوجی روابط محدود کرنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ امریکا کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے اتحادی کو جدید طیارے فراہم کرے، مگر حساس ٹیکنالوجی کے تحفظ اور اسرائیل کی علاقائی فوجی برتری سے متعلق خدشات بھی سنبھالے۔




